امریکہ نے ایک بار پھر کینیڈا میں ہردیپ سنگھ کے قتل پہ تشویش کا اظہار کر دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے نمائندہ خصوصی برائے بین الاقوامی تعاون جیمز روبن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ اس قتل کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
جیمز روبن کا کہنا تھا کہ قتل کی تحقیقات میں بھارت کا کینیڈا کے ساتھ تعاون کرنا اہم ہے۔ امریکہ قاتلوں کی تلاش میں کینیڈا کو مدد فراہم کر رہا ہے اور بھارت سے بھی یہی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کا کینیڈا اور بھارت کے درمیان سفارتی تنازعہ پہ ڈس انفارمیشن پھیلانے کا کوئی ثبوت نہیں۔
نمائندہ خصوصی برائے بین الاقوامی تعاون نے مزید کہا کہ منصوبہ بندی کے ذریعے قتل کے بیان پہ معذرت چاہتا ہوں۔ قتل ہوا ہے اور اس کی تحقیقات مکمل ہونے تک اس بارے بات نہیں کرنی چاہئے۔
جیمز روبن نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ بھی بھارت سے مکمل رابطے میں ہے۔ بھارتی حکومت کا اس حوالے سے تعاون انتہائی اہم ہوگا۔
دوسری جانب بھارت نے جیمز روبن کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بھارتی محکمہ خارجہ کے ترجمان اریندام بخشی نے مزید کنیڈین سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا عندیہ دے دیا۔
اریندام بخشی کا کہنا ہے کہ ہمارے خیال میں کینیڈین سفارت کا تناسب بھارت کے کینیڈا میں سفارت کاروں سے زائد ہے۔ جلد ہی بھارت مزید کینیڈین سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا کہے گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















