اسرائیل نے شمالی غزہ کے 11 لاکھ افراد کو 24 گھنٹوں میں علاقہ چھوڑنے کی دھمکی دے دی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے 11 لاکھ فلسطینیوں کو اگلے 24 گھنٹوں کے اندر جنوب کی طرف جانے کا کہہ دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ انتباہ اقوام متحدہ کو بتایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسرائیلی فوج سے یہ حکم نامہ منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے ۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اس طرح کی منتقلی کو تباہ کن سمجھتی ہے ۔ یہ حکم نامہ پہلے سے شروع غزہ کے سانحہ کو مزید المناک صورتحال میں تبدیل کر سکتا ہے ۔
ترجمان اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس حکم کا اطلاق اقوام متحدہ کے تمام عملے، سہولیات بشمول اسکولوں، صحت کے مراکز اور پناہ لینے والوں پر ہے ۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے رہائشیوں کو ’حفاظت اور تحفظ‘ کے لیے وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی سفیر نے غزہ سے عوام کے انخلا کے حکم پر اقوام متحدہ کے ردعمل کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی سالوں سے اقوام متحدہ نے حماس کو مسلح کرنے اور غزہ کی پٹی میں شہری آبادی اور سویلین انفراسٹرکچر کو ہتھیاروں اور اپنے لیے چھپنے کی جگہ کے طور پر استعمال کرنے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
اسرائیلی سفیر نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اب اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے الٹا اسرائیل کو نصیحت کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔
غزہ میں مزید 3 لاکھ 38 ہزار سے زائد لوگ اب بے گھر ہو چکے ہیں۔ جبکہ ڈھائی ہزار سے زیادہ مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
غزہ میں 88 تعلیمی اداروں کو بھی نقصان پہنچا جن میں 18اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول شامل ہیں۔ مسلسل چھٹے دن غزہ میں چھ لاکھ سے زائد بچے اسکول نہ جاسکے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















