ماہرین کے مطابق حماس نے اسرائیل پر حملے میں شمالی کورین ہتھیار کا استعمال کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فلسسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے ماہرین نے بتایا کہ حملے میں استعمال ہونے والا ہتھیار شمالی کوریا کا بنایا گیا ہتھیار ’ایف 17 پروپیلڈ گرنیڈ‘ تھا جو کندھے پر رکھ کر چلایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار جنگجوؤں کی جانب سے بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب کہ یہ ہتھیار ایک وقت میں ایک ہی راکٹ فائر کرتا ہے جب کہ دوبارہ حملے کے لیے اسے فوراً ری لوڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ یہ ہتھیار گوریلا جنگجوؤں کا پسندیدہ ہتھیار رہا ہے جسے وہ جھڑپوں کے دوران گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرئیلی فوج کی بمباری سے غزہ کے اسپتال قبرستان بن گئے
انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے بنایا جانے والا یہ ہتھیار اس سے قبل شام، عراق، لبنان اور غزہ میں بھی دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ شمالی کوریا بہت عرصے سے فلسطینی عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کررہا ہے اور پہلے بھی ان گروہوں کو ملنے والی ہتھیاروں کی کھیپ میں شمالی کوریا کے ہتھیار پائے گئے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















