اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کے حوالے سے امریکا اور روس کی جانب سے پیش کی گئیں دونوں قراردادیں نامنظور ہوگئیں۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور نا ہو سکی۔
روس اور چین نے اقوام متحدہ میں امریکا کی جانب سے غزہ کی صورتحال پہ پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔
دس ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ دو ممبر ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔
قرارداد میں غزہ میں جنگ کے دوران عارضی سیز فائر کی اپیل کی گئی تھی اور حماس کی جانب سے قیدی بنائے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی رکھا گیا تھا۔
امریکا اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ روس کی قرارداد میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی اور صرف جنگ بندی کے لیے کہا گیا اس لیے اسے ویٹو کیا۔
اقوام متحدہ میں دوسری قرارداد جو کہ روس کی جانب سے پیش کی گئی تھی وہ بھی ناکام ہوگئی۔
روس کی قرارداد کے حق میں چار ووٹ آئے جبکہ امریکا اور برطانیہ نے قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ نو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔
اقوام متحدہ نے قراردادیں منظور نا ہونے پہ افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بڑی قوتوں کی آپس کی لڑائی میں غزہ کے عوام پس رہے ہیں ۔
پاکستانی سفیر منیر اکرم نے قراردادیں منظور نا ہونے پہ رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فالج زدہ ہو چکی ہے۔ سلامتی کونسل صرف پانچ مستقل ممبران کی ویٹو کی طاقت کے نیچے دب چکی ہے ۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















