Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

صیہونی بربریت کے حساب کا وقت آگیا، حسب اللہ کے سربراہ کا بڑا اعلان

بیروت: حسب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ماؤں بہنوں کی آواز پر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اہم خطاب کیا جس میں کہا کہ باتیں کی جارہی ہیں کہ حزب اللہ بھی جنگ میں شامل ہونے جارہی ہے جب کہ حسب اللہ 8 اکتوبرسے ہی جنگ میں شامل ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں نہتے لوگوں کو شہید کیا، غزہ کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں اور شہید کبھی مرتے نہیں ہمارے لیے وہ زندہ ہیں۔ اسرائیل کے خلاف لڑنے والے تمام شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔

حسن نصر اللہ نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے لیے جاری جنگ کا دائرہ بڑھ گیا ہے جب کہ صیہونیوں کے خلاف جنگ اخلاقی ومذہبی لحاظ سے جائز ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں نہتے خواتین و بچوں کو نشانہ بنایا اور فلسطینیو ں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی اسرائیل کی قید میں ہیں، طوفان اقصیٰ کی جنگ مختلف محاذوں پر پہنچ گئی ہے۔ حزب اللہ کو 7 اکتوبر آپریشن کی پیشگی اطلاع نہیں تھی جب کہ 7 اکتوبر کے آپریشن کورازداری سے انجام دیا گیا۔

حزب اللہ کے سربراہ کہتے ہیں ’’نہ جھکیں گے نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، دنیا نے اسرائیل کے مظالم پرآنکھیں بند کرلی ہیں لیکن صیہونی بربریت کے حساب کا وقت آگیا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ 20 سال سے یہ ظلم بتدریج بڑھ رہا ہے اور روز قتل عام ہوتا ہے جب کہ صیہونیوں کے خلاف جنگ کردار کی جنگ ہے اور بربریت کےخلاف جنگ ہے۔ فخر ہے عراقی اور یمنی براہ راست جنگ میں شامل ہوچکے۔

سربراہ حزب اللہ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے اسرائیل کی مذمت کی جارہی ہے، طوفان اقصیٰ کا آپریشن بروقت اور شاندار تھا جب کہ امریکا اسرائیل کی پوری طرح مدد کر رہا ہے۔ حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے۔

حسن نصراللہ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے پاس یرغمالیوں کو رہا کرنے کےعلاوہ کوئی راستہ نہیں، اسرائیلی حملوں سےکوئی محفوظ نہیں، دنیاصرف تماشا دیکھ رہی ہے جب کہ غزہ میں بدترین شکست اسرائیل کا انتظار کررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوجی کسی بھی طرح حماس سے مقابلے کے لیے تیارنہیں تھے، اسرائیل حماس کے خاتمے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ تصدیق ہے کہ ایران مزاحمتی دھڑوں کی سرپرستی نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں جنگی اصول نہیں جب کہ اسرائیل مجاہدوں کے جذبے کوشکست نہیں دے سکتا۔ فلسطین میں قتلِ عام کامقصد ان کے رہنماؤں کوجھکنے پر مجبور کرنا ہے۔

حسن نصراللہ نے مسلم دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جوغزہ میں مظالم پر خاموش ہیں ان کو دوبارہ سوچنا چاہیے۔ عرب ممالک اسرائیل کو تیل اور خوراک کی سپلائی بند کریں اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنا پڑیں گے۔

سربراہ حزب اللہ نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خطے میں جارحانہ عزائم کبھی پورے نہیں ہوں گے، مظلوم فلسطینیوں کے لیے جنگ کےعلاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا جب کہ حقیقی فیصلہ ساز مزاحمتی تحریکوں کے رہنما ہیں کوئی اور نہیں۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں