اسرائیلی فورسز کی غزہ پر بمباری سے ہونے والی شہادتیں 11 ہزار کے قریب پہنچ گئیں۔
بین الاقوامی خبرر ساں ادارے کے مطابق حماس اور اسرائیلی جنگ 34 ویں روز میں داخل ہوگئی جس دوران اسرائیلی فورسز کی غزہ پر بمباری سے چار ہزار سے زائد بچوں سمیت 10500 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں ۔
رات بھر اسرائیلی فورسز نے غزہ کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جس میں مزید 300 فلسطینی شہید ہوئے۔ خان یونس میں حملے سے 4 فلسطینی بچے شہید ہوگئے۔
جبالیہ کیمپ کے قریب اسرائیلی فضائی حملے سے 19 افراد شہید ہوئے ۔
غزہ میں بچوں کے ایک گروپ نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے امن اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
بچوں نے کہا کہ ہم جینا چاہتے ہیں، ہم امن چاہتے ہیں، ہم خوراک، دوا اور تعلیم چاہتے ہیں، بم نہیں۔
یاد رہے کہ دو روز قبل اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے نیویارک میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ غزہ کا ڈراؤنا خواب ایک انسانی بحران سے بڑھ کر ہے۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ یہ انسانیت کا ایک بحران ہے، دن بدن شدت اختیار کرتا تنازعہ دنیا اور خطے کو ہلا رہا ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سی معصوم جانیں تباہ ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ غزہ بچوں کا قبرستان بنتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روزانہ سینکڑوں بچے اور بچیاں ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہر 15 منٹ میں ایک بچہ شہید ہورہا ہے اور ہر ایک گھنٹے میں 420 بچے شہید یا زخمی ہورہے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
