فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی کے بدلے یرغمالیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کردی۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے کےمطابق حماس نے غزہ میں 5 دن جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمالی خواتین و بچوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
حماس کی القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ قطری ثالثوں کو بتا دیا ہے کہ ان 5 دنوں میں مکمل جنگ بندی ہونی چاہیے اور غزہ میں ہر انسانی امداد کی اجازت ہونے چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے قطری بھائیوں کی طرف سے دشمن کے قیدیوں (عورتوں اور بچوں) کی رہائی کے لیے کوشش کی گئی تھی جس کے بدلے میں 200 فلسطینی بچوں کی رہائی ممکن ہوئی تھی جبکہ دشمن کی 75 خواتین کو رہا کیا گیا تھا۔
ابو عبیدہ نے اسرائیل پر ڈیل میں تاخیر اور اس سے فرار کا بھی الزام لگایا۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی اس جنگ میں تقریباً 5 ہزار بچوں سمیت 11 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ 30 ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں ان کے 60 مراکز کو نشانہ بنایا ہے جو مجموعی سہولیات کا 70 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے گزشتہ روز 3 اطراف سے ہمارے مراکز کو نشانہ بنایا۔
فلسطین کے وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل ہر 10 منٹ میں ایک بچے کو قتل کررہا ہے۔
یونیسکو کی جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نےکہا کہ اسرائیل نے بدترین جارحیت کے دوران غزہ میں 11 ہزار سے زائد افراد کو شہید کر دیا ہے جن میں سے 74 فیصد بچے اور خواتین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق افراد میں 49 صحافی بھی شامل ہیں یہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں قتل ہونے والے صحافیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















