بحرین میں اردومرکزبحرین کےزیراہتمام فلسطینیوں سےاظہارِیک جہتی کےطورپرمذمتی وتعزیتی شعری نشست کا اہتمام کیا گیا۔
رنگین بھی ہوگا تو ہمارے ہی لہو سے
یہ منظرِ سادہ ہمیں معلوم نہیں تھا
(اجمل سراج)
بحرین کےعزت مآب شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کے انسانی ہمدردی کے کاموں اور نوجوانوں کے امورکے نمائندے، عزت مآب شیخ ناصربن حمد الخلیفہ نے رائل ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (RHF) کی طرف سے شروع کی گئی ‘مدد غزہ’ مہم کے لیے BD100,000 کا فراخدلی سےعطیہ کیا۔ اس قومی مہم کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کے لیے فوری طور پر درکار امداد جمع کرنا ہے۔ انسانی ہمدردی کی کوششوں کے لیے اس طرح کی حمایت قابل تحسین و قابل تقلید ہے۔
مسئلہ فلسطین نے ہرحساس شخص کو متاثر کیا ہے اور فلسطین عالمی ادب کا موضوع بھی رہا ہے ۔ شعرا وادبا معاشرے کے حساس ترین فرد ہوتے ہیں چنانچہ اس سلسلے میں ان کے قلم کی جنبش فطری ہے۔ اس بڑے المیے کے سبب قلم کاروں کے احساسات درد وکرب کے گوناں گوں تجربات سے گزررہے ہیں، جس کے اظہار نے ادب کو یقین وسعت بخشی ہے۔ اس سے مزاحمتی ادب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ارض فلسطین پراس غاصبانہ قبضے کے خلاف قلم کاروں نے مزاحمتی ادب سے اپنا احتجاج درج کرایااور۔شعرا نےغزہ پراسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ ساتھ ہی فلسطینیوں کی جدو جہد آزادی، مزاحمت، آشفتہ سری،عزم محکم، یقین کامل، ارض وطن کے لیے جذبہ شہادت، ایمان کی طاقت کوبھی سلام پیش کیا ہے اوران کا دکھ منظوم کیا اَورلفظوں سے فلسطینوں کی جنگ آزادی می اپنا حصہ ڈالا۔
معصوم فلسطینیوں پرڈھائے جانے والے مظالم دیکھ کرشعرا کا کلیجہ پھٹ پڑتا ہے۔ انبیاعلیہم السلام کی سرزمین پرغاصبانہ تسلط اور فلسطینی عوام پرمظالم کے خلاف آواز بلند کرنےاوراپنے جذبات کے اظہارکے لیےبحرین کی معروف ادبی تنظیم “اردو مرکز بحرین” نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجتی کے طور پر ایک مذمتی/تعزیتی شعری نشست کا اہتمام کیا جس کی صدارت بحرین کے سینئرشاعرجناب احمد عادل نے کی جبکہ نقابت کےفرائص خوبصورت لب ولہجےکےمالک جناب خرم عباسی نے ادا کیے، نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، شیرازصاحب نے اپنی خوبصورت آواز میں معروف شاعرعمران پرتاب گڑھی کی ایک پر سوز نظم پڑھی جس پر محفل کی ہر آنکھ نم تھی.
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
سن لے تو آج یہ فریاد خدایا میری
تیرے محبوب نے جس سمت کیے تھے سجدے
حکم سے تیرے وہ أصحاب النبي (ص) کے سجدے
سیکڑوں غم لیے سینےمیں ہےغمگین کھڑا
اب فقط تیرے سہارے ہے فلسطین کھڑا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
سن لے تو آج یہ فریاد خدایا میری
اردو مرکزسے منسلک اہلِ قلم نے فلسطین باالخصوص غزہ کے مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنا کلام پیش کیا۔ نشست میں اپیل کی گئی کہ رائل ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی طرف سے شروع کی گئی ‘ہیلپ غزہ’ مہم کی بھرپورحمایت کریں اوراس کارِخیرمیں دل کھول کرعطیات جمع کرائیں۔
شعرا کا انتخابِ کلام نذرِ قارئین ہے۔
احمد عادل
ظلمت کے خداؤں کو مٹا کیوں نہیں دیتے
’’منصف ہوتواب حشراٹھا کیوں نہیں دیتے‘‘
یہ خوں کے مناظرہیں جو پھیلے ہوئےہرسُو
اس کربِ مسلسل کی دوا کیوں نہیں دیتے
ہرسمت سے بارود برستا ہے شب و روز
یہ شعلۂ سفاک بجھا کیوں نہیں دیتے
عادل تھی یہی رسم کہ سرکوئی نہ اٹھے
جاں دے کےاٹھانےکا صلہ کیوں نہیں دیتے
رخسارناظم آبادی
یہ فلسطینی مجاہد کرتے ہیں ہم سے سوال
کیا یوں ہمدردی سے ہوگی مسجدِ اقصٰی بحال
ہم فلسطینی کھڑے ہیں اب دہانے موت کے
امتِ مسلم پہ واجب ہے ہماری دیکھ بھال
جب وہ صیہونی قبیلے آج ہیں سب متحد
اجتماعی طورپرہم کیوں نہیں ہیں ہم خیال
یاد یہ رکھنا ابھی تو ہم قریبی ہیں ہدف
ہم مٹے تو بعد میں کس کس کا ہوگا کیسا حال
اقبال طارق
اک حرم قدسی نہیں اب کوبکو ہی کربلا
کلمہ گو تیرے لیے ہیں چار سو ہی کربلا
انبیا کی ہے زمیں ہے مسجدِ اقصی جہاں
قبلہء اوّل مرے اَب ہے تُوہی کربلا
اُن میں جذبہء شہادت کس طرح ناپید ہو
کررہی ہے جن کے بچوں کی نمو ہی کربلا
اے خرد مندو مبارک تم کو آبِ ناب ہو
بندہءمومن کاہے جام سبو ہی کربلا
ریاض شاہد
کرب کے قصے کا عنوان فلسطین لکھوں
سسکیاں بھرتے ہوئے بچوں کی تحریر لکھوں
ہے یہ وہ ارض مقدس کہ جسے سجدے ہوئے
قبلۂِ اُولیٰ ہوا امتِ احمد کے لئے
آج اسی ارضِ فلسطین پہ قابض ہیں یہود
جذبۂِ امت احمد بھی ہوا ہے مفقود
اپنے امرا تو ہوئے مست ہیں میخانوں میں
وہ کہ رندانِ غرض جاگ نہ پائے ہیں ابھی
جذبۂِ شوقِ شہادت کی لگن کے ہی بغیر
ہم ابابیل کے لشکر کی دعائیں مانگیں
سعید سعدی
مرے ہم سائے کے گھر میں بھلے برپا قیامت ہے
مجھے کس بات کی پروا مرا گھر تو سلامت ہے
یہ میری بے حسی ہے یا اسے تم بے بسی کہہ لو
نہ آنکھوں میں نمی آئی نہ ہونٹوں پر ملامت ہے
اسد اقبال
ظُلم کی انتہا ہے فلسطین میں
اک قیامت بَپا ہے فلسطین میں
حالِ اطفال پر خون روتا ہے دل
جو سِتم ہو رہا ہے فلسطین میں
اُمّتِ مُسلِمہ جان لے اب جہاد
سب پہ لازم ہوا ہے فلسطین میں
شب کھڑا خواب میں دست بستہ اسد
یہ غزل پڑھ رہا ہے فلسطین میں
نعیم رضا مقبول
بیدار کر سکی نا فلسطین کی صدا
رس گھولتی ہے کان میں بے دین کی صدا
مغرب کا زنگ ہے مرے قلبِ سلیم پر
بے سود ہو گئی مرے ایمان کی صدا
کعبے کے پاسباں نے بھی قالو بلا کہا
لیکن یہ کیا کہ مان لی وجدان کی صدا
قوت ہے تیری کلمہِ توحید یاد رکھ
برباد کر نا دے رضا شیطان کی صدا
اردو مرکزبحرین کے زیر اہتمام عشائیے پراس ادبی محفل کا اختتام ہوا۔




















