عالمی برادری کی طرف سے جنگ بندی پر زور کے باوجود اسرائیلی فوج نے نہتے فلسطینیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق النصیرات کیمپ پر کار حملے میں 5 افراد شہید ہوئے، انروا کے دفتر کو بھی نشانہ بنایاگیا،جنوبی غزہ میں خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد شہید ہوئے جبکہ امدادی مرکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں 23 فلسطینی شہید ہوئے۔
الشفا اسپتال کا گھیراؤ کرکے اسرائیل نے 50 حماس ارکان کی اموات کا دعویٰ کیا ہے جبکہ 80 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدربائیڈن کو آگاہ کیا ہے کہ رفح پر زمینی حملے ضروری ہیں ، اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
امریکی سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ مئی تک جنگ بند نہ ہوئی اور غزہ میں امداد نہ پہنچائی گئی تو شدید غذائی بحران سے ہزاروں فلسطینی مرجائیں گے۔
حماس نے غزہ میں امدادی کارکنوں پر اسرائیلی حملےکی مذمت شدید مذمت کی ہے۔
حماس کے رہنما کاکہنا ہے کہ حملے اسرائیل کی بدمعاشی کاایک اورثبوت ہے، اسرائیل بمباری اوربھوک سےقتل عام کررہاہے، فلسطینی عوام اسرائیلی دہشت گردی کامتحد ہوکرمقابلہ کریں گے، دنیااسرائیل کوروکنےکی قانونی اوراخلاقی ذمہ داری اداکرے۔
امریکی وزیرخارجہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ غزہ کی اب 100فیصد آبادی کوغذائی قلت کاسامناہے، اقوام متحدہ کےمطابق 100فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
وائٹ ہاؤس نے غزہ میں قحط سے متعلق رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کو غزہ میں بلا تعطل امداد فراہمی کی اجازت دینی چاہیے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ رفح آپریشن پر اسرائیل اور امریکی حکام کی ملاقات آئندہ ہفتے متوقع ہے۔




















