ڈونلڈ لو کا پاکستان سے متعلق بڑا بیان سامنے آگیا ہے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ ڈونلڈ لو کل کانگریس کمیٹی میں پیش ہوکر بیان دیں گے۔ جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حالات اور سیاسی صورتحال کو بہت قریب سے جانتا ہوں۔ انتخابات میں تشدد اور دھمکیوں کے باوجود عوام کو ووٹ ڈالتے دیکھا۔
ڈونلڈ لو نے کہا کہ انتخابات میں مداخلت یا دھوکا دہی کے دعوؤں کی چھان بین ہونی چاہیے، انتخابات میں جو کچھ ہوا اور پاکستان میں جو حالات ہیں اس پرفکرمند ہیں۔
انتخابات سے پہلے پولیس، سیاستدانوں اور سیاسی اجتماعات پر حملے ہوتے رہے۔ پارٹی کارکنان نے صحافیوں خصوصاً خواتین صحافیوں کو ہراساں کیا۔ سیاسی رہنما، مخصوص امیدواروں اور پارٹیوں کو رجسٹر کرانے سے قاصر رہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی مانیٹرنگ کے ادارے نے بتایا کہ انہیں آدھے سے زائد حلقوں کی مانیٹرنگ سے روکا گیا، عدالتی ہدایت کے باوجود ملک بھر میں 8 فروری کو انٹرنیٹ سروس بند رکھی گئی۔ 8 فروری کو موبائل ڈیٹا سروسز اور پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز بھی بند رہیں۔
ڈونلڈ لو نے کہا کہ دھمکیوں اور تشدد کے باوجود 6 کروڑ پاکستانیوں کا ووٹ ڈالنا مثبت پہلو تھا۔ ووٹرز نے 2018 کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد خواتین کو منتخب کیا۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ مذہبی اور نسلی اقلیتی گروہوں کے ارکان اور نوجوانوں نے بھی انتخابات میں حصہ لیا۔ 3 مختلف سیاسی جماعتیں اب پاکستان کی قیادت کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد مبصرین نے بےضابطگیوں کی نشاندہی کی تاہم انتخابات کو مسابقتی قرار دیا۔ آزاد مبصرین نے نتائج کی تیاریوں میں بےضابطگیوں کی نشاندہی کی۔
امریکی نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکی پالیسی آگے بڑھ رہی ہے، پاکستان امریکا کا اہم پارٹنر ہے۔ پاکستان کے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا امریکی پالیسی میں شامل ہے۔
ڈونلڈ لو نے کہا کہ امریکا پاکستان میں مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کا احترام دیکھنا چاہتا ہے۔ امریکا پاکستان کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے میں مکمل تعاون کرتا ہے۔ امریکا پاکستان کی اقتصادیات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا 76 سالوں سے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ امریکا منگلا اور تربیلا ڈیم کی اپ گریڈیشن میں مالی تعاون کررہا ہے۔
ڈونلڈ لو نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیساتھ امریکا پاکستان کو مسلسل مالی امداد فراہم کررہا ہے۔ پاکستان کو ایک دہائی سے قرضوں کے بڑھتے چیلنجز کا سامنا ہے۔
امریکی نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ رواں سال حکومتی محصولات کا 70 فیصد قرض اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہوگا۔ پاکستان کو پرائیویٹ سیکٹرمیں سرمایہ کاری اور معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
