امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل کا کہنا ہے کہ قاتلانہ سازش کے بامعنی احتساب تک امریکہ مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوگا۔
واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل سے سکھ رہنما کے قتل کی سازش پر بھارتی انکوائری کمیٹی سے ملاقاتوں پر سوال کیا گیا۔
ویدانت پٹیل سے پوچھا گیا کہ بھارت نے اس سازش کے حوالے سے امریکہ کو کیا بتایا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے بھارت کی انکوائری کمیٹی کے ساتھ متعلقہ تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے معلومات کا تبادلہ ہوا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستانی انکوائری کمیٹی اپنی تحقیقات جاری رکھے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ ہم گزشتہ ہفتے کی بات چیت کی بنیاد پر مزید اقدامات کی توقع کرتے ہیں۔ اس تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر احتساب دیکھنا چاہتے ہیں،قاتلانہ سازش کے بامعنی احتساب تک امریکہ مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوگا۔
ترجمان سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق سوال کیا گیا کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی رہائی کی درخواست کی ہے، آپ کا کیا موقف ہے؟َ
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان نجی سفارتی رابطے کے درمیان میں نہیں آؤں گا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قید سے متعلق کسی بھی انکوائری کے بارے میں محکمہ انصاف سے بات کرنے کو ترجیح دوں گا۔
انہوں نے پاکستان میں پولیس کے ہاتھوں توہین مذہب کے الزام میں ایک ڈاکٹر کو قتل کرنے کے واقعہ پر کہا کہ پاکستان سمیت دنیا میں ہر جگہ توہین رسالت کے قوانین کی یکساں مخالفت کرتے ہیں۔
ویدانت پٹیل کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قوانین انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے استعمال کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ہم ان خدشات کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ باقاعدگی سے اٹھاتے رہتے ہیں۔
