برطانوی عدالت نے اسرائیل مخالف بیان پر ویزا منسوخ ہونے والی طالبہ کے حق میں فیصلہ سنادیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی عدالت کا کہنا ہے کہ ہوم آفس یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ فلسطینی نژاد قانون کی طالبہ کا 7 اکتوبر کے حوالے سے تبصرہ عوام کی بھلائی کے لیے سازگار نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق ٹربیونل کا کہنا ہے کہ حکومتی فیصلہ انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کے تحت آزادی اظہار رائے میں مداخلت ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی نژاد 20 بیس سالہ طالبہ دانا ابو قمر جو کینیڈا اور جارڈن کی بھی شہریت رکھتی ہیں۔
انہوں نے 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا ’’16 سال سے غزہ کو ناکہ بندی کا سامنا ہے اور پہلی مرتبہ انہوں نے مزاحمت دکھائی ہے جب کہ ہمیں ان پر فخر ہے‘‘۔
واضح رہے کہ طالبہ کے بیان کے فوری بعد برطانوی حکام نے دسمبر 2023 میں ان کا اسٹوڈنٹس ویزا منسوخ کردیا تھا۔




















