Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مودی سرکار کا ’’میک ان انڈیا پراجیکٹ‘‘ بُری طرح ناکام

نئی دہلی: مودی سرکار نے 2014 میں ’’میک ان انڈیا پراجیکٹ‘‘ کا آغاز کیا جو حکومت کے گلے کا پھندہ بن گیا ہے۔

دفاعی مینوفیکچرنگ کے لیے بھارت کے میک ان انڈیا پراجیکٹ کو اصلاحات کے باوجود مشکلات کا سامنا ہے،10سال گزرنے کے بعد بھی بھارت اس پراجیکٹ میں اپنا کوئی بھی ہدف پورا نہیں کرسکا ہے۔

ہندوستان میں دفاعی جدیدیت کے بارے میں تقریباَ ہر بحث کا آغاز اور اختتام ماہرین کی جانب سے وزارت دفاع پر تنقید کے ساتھ ہوتا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں بھارت کے دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے انکشاف کیا کہ ’’بھارت ایک ایسا ملک ہے جو درآمد شدہ ہتھیاروں سے لڑتا ہے‘‘۔

دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ ہوائی جہاز ہوں یا فائٹر طیارے، ہیلی کاپٹر ہوں یا ٹینکس، آبدوز ہوں یا طیارہ بردار بحری جہاز حتیٰ کہ ایئر کرافٹ کیرئیر بھی سب کو درآمد کیا جاتا ہے۔

راہل بیدی نے بتایا کہ بھارت کی خود پر انحصار کی صلاحیت بہت ہی ناقص ہے، پچھلے 65 سالوں میں بھارت نے کوئی ہتھیار بنانے کا نظام نہیں بنایا ہے۔

خیال رہے کہ چھ سالوں میں بھارتی فوج میں 75 فیصد ارجن ٹینک تکنیکی مسائل کی وجہ سے مکمل طور پر غیر فعال ہوگئے ہیں۔

بھارتی فوج نے مقامی طور تیار کی گئی اسالٹ رائفل کو بھی ناقص کارکردگی اور کمزور فائر پاور کی وجہ سے مسترد کردیا تھا۔

9 مارچ 2022 کو پاکستان کی حدود میں گرنے والا میزائل براہموس بھی تکنیکی خرابی کے باعث بھارت سے فائر ہوا تھا۔

بھارتی فضائیہ میں مگ ٹوئنٹی ون طیارے، وڈو میکر، فلائنگ کفن کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

دی اکانومک ٹائمز کے مطابق میک ان انڈیا پراجیکٹ میں اب تک بھارت نے مہلک ہتھیاروں کے نظام کی تیاری کے لیے کسی بڑے مشترکہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔

دوسری جانب رواں سال بھارتی اخبار دی ہندو نے بھی ’’میک ان انڈیا پراجیکٹ‘‘ کی ناکامی کا بھانڈا پھوڑا تھا۔

بھارتی اخبار کے مطابق بھارت میں بیوروکریسی کی رکاوٹوں کے باعث کاروباری شخصیات اپنا پیسہ ملک سے باہر انویسٹ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی درآمداد نے بھارت کی مقامی انڈسٹری کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کو نوکریوں سےمحروم کردیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں ایک عام کمپنی کو آن لائن رجسٹر کروانے میں بھی مہینوں لگ جاتے ہیں جب کہ لینڈ پرمٹ لینے میں کم از کم 5 سے 6 سال لگ جاتے ہیں۔

بھارتی بینک ریسرجنٹ انڈیا کے مطابق بھارت میں 70 فیصد پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کار کو معاشی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مودی سرکار کی پیش رفت پر ڈھول بجانے کا شور ناکامی کے باعث دب چکا ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی دفاعی کمپنی اڈانی ڈیفنس اینڈ ایئرو اسپیس بھی ’میک ان انڈیا پراجیکٹ‘ میں شراکت دار رہی ہے جب کہ مودی اڈانی گٹھ جوڑ کی بڑے پیمانے پر کرپشن  بھی ’میک ان انڈیا پراجیکٹ‘ کی ناکامی کی اہم وجہ ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ درحقیقت مودی سرکار کا ’میک ان انڈیا پراجیکٹ‘ اسلحے کی پیداوار میں ناکام ہوچکا ہے، گزشتہ ایک دہائی سے مودی اور اس کی  جماعت کھوکھلے وعدوں اور نعروں سے بھارتی ریاست کا نظام چلا رہی ہے۔

دفاعی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ مودی سرکار کی مکمل توجہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت پر مرکوز ہے جو بھارت کے دفاعی نظام میں ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

متعلقہ خبریں