نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 سال کی عمر میں والد کو قتل کرنے والی ڈاکٹر جینیٹ نیشیوات کو امریکہ کی نئی سرجن جنرل نامزد کیا ہے، وہ ایک نجی نیوز چینل پر طبی ماہر کے طور پر مشہور ہیں۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے غلطی سے اپنے والد کو گولی مارنے والی خاتون کو امریکہ کی نئی سرجن جنرل مقرر کیا ہے۔
48 سالہ ڈاکٹر جینیٹ نیشیوات چند ہفتوں کے اندر ملک کے اعلیٰ ڈاکٹر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے حلف اٹھائیں گی۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ جب وہ (ڈاکٹر نیشیوات )13 سال کی تھیں تو انہوں نے فلوریڈا کے اورلینڈو میں واقع گھر میں غلطی سے اپنے والد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
1990 میں پیش آنے والے واقعے کی پولیس رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر نیشیوات نے افسران کو بتایا کہ وہ صبح کے وقت والد کے کمرے میں قینچی لینے گئی تھیں، انہوں نے جیسے ہی باکس کھولا اس میں سے کچھ گرا اور ایک زوردار آواز آئی۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے والد کے کان پر خون دیکھا۔ 44 سالہ بین نیشیوات کو اگلے دن ایک ہینڈگن سے سر پر گولی لگنے سے مردہ قرار دے دیا گیا تھا جبکہ تفتیشی افسر نے اس موت کو حادثاتی فائرنگ قرار دیا۔
اپنی یادداشت، بیونڈ دی اسٹیتھواسکوپ میں، ڈاکٹر نیشیوات نے لکھا جب میں 13 سال کی تھی تو میں نے بے بسی سے اپنے پیارے والد کو ایک حادثے میں مرتے ہوئے دیکھا۔ میں ان کی جان نہیں بچا سکی، یہ ڈاکٹر بننے کے لیے میری زندگی میں ذاتی سفر کا آغاز تھا، انہوں نے اپنی پرورش کا سہرا اپنی والدہ حیات کو دیا۔




















