امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بطورِ صدر حلف اٹھاتے ہی امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف تاریخ کے سب سے بڑے کریک ڈاون کا آغاز ہوگیا ہے۔
امیگریش اینڈ کسٹم انفارسمینٹ کے محکمہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 308 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کرلیا، گرفتار ہونے والے تارکین وطن قتل، عصمت دری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔
امیگرینٹس کریک ڈاون کے آپریشن کی نگرانی کرنے والے ٹام ہومین کا کہنا ہے کہ محکمہ امیگریشن کا پہلا حدف سنگین جرائم بشمول قتل، عصمت دری اور دیگر میں ملوث خطرناک غیر قانونی تارکین وطن مجرمان ہیں لیکن ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن بھی امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کے تحت زد میں آئیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک تخمینہ کے مطابق 7 لاکھ ایسے غیر قانونی تارکین وطن امریکہ میں موجود ہیں جو عوامُ الناس کیلے خطرہ ہیں۔
دوسری طرف نئی ٹرمپ ایڈمنسٹریشن واضح کرچکی ہے غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاری کیلئے اسکولوں اور چرچز کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ حکومت کی جانب سے شروع ہونے والے کریک ڈاون کی وجہ تارکین وطن کمیونٹی میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے اور تارکین وطن نے بڑی تعداد میں قانونی مدد کے حصول کیلئے وکلا اور تنظیموں سے رابطے کرلئے ہیں۔
