Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بنگلہ دیشی عوام کا شیخ مجیب الرحمان کی یادگار اور رہائش گاہ پر دھاوا

بنگلادیشی عوام نے انڈیا کے ساتھ ملکر شیخ مجیب الرحمان کی 1971 میں کی جانے والی سازش کی ایک بار پھر تسخیح کر دی۔

بدھ 5 فروری کی رات بنگلادیشی عوام نے دھانمنڈی 32 میں واقع شیخ مجیب الرحمان کی یادگار اور رہائش گاہ پر دھاوا بولا، عوامی ہجوم نے ان کی یادگار اور رہائش گاہ میں توڑ پھوڑ کی۔

عوامی ہجوم کی جانب سے عوامی لیگ پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا جبکہ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں گھر کی ایک منزل پر آگ کے شعلے دکھائی دے رہے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی آن لائن تقریر کے بعد عوامی لیگ کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔

سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر شیخ حسینہ آن لائن تقریر کرتی ہیں توشیخ مجیب الرحمان کی دھانمنڈی 32 میں واقع رہائش گاہ کی طرف “بلڈوزر جلوس” لے جایا جائے۔

ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق رات 8 بجے کے قریب مظاہرین ایک ریلی کی شکل میں شیخ مجیب کی رہائش گاہ پہنچے، عوام مین گیٹ کو توڑتے ہوئے زبردستی اندر گھس گئی اور مظاہرین نے رہائش گاہ میں موجود ان کی تصاویر کو بھی نذر آتش کردیا۔

امتیازی سلوک مخالف اسٹوڈنٹ موومنٹ کے کنوینر حسنات عبداللہ نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ آج رات بنگلہ دیش کی سرزمین فاشزم سے آزاد ہو جائے گی۔

مظاہرین نے اس موقع پر کہا کہ شیخ مجیب الرحمان کا خاندان آمریت اور فسطائیت کی علامت ہے، بنگلہ دیش سے مجیب ازم کے فاشزم کے ہر نشان کو مٹا دیا جائے گا۔

مظاہرین کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کو واپس لا کر پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق دیگر شخصیات، بشمول انقلاب منچہ کے کنوینر اور جاتیو ناگورک کمیٹی کے رکن شریف عثمان ہادی نے بھی حملے کی وارننگ پوسٹ کی، گزشتہ سال5 اگست کو بھی مظاہرین نے ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا اور کچھ حصے کو آگ لگا دی تھی۔

یہ گھر بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک علامتی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ شیخ مجیب نے یہاں سے نام نہاد تحریک آزادی کی قیادت کی تھی، شیخ حسینہ کے دور حکومت میں اسے ایک عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا، جہاں عالمی رہنما سرکاری پروٹوکول کے تحت دورہ کرتے تھے۔

بنگلہ دیش میں انقلاب اور حکومتی تبدیلی کے بعد سے شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ تاحال زیرعتاب ہے، ان کے خلاف عوامی غصہ اب بھی برقرار ہے اور عوام کی جانب سے احتجاج کیے جاتے ہیں، شیخ حسینہ گزشتہ سال اگست میں بنگلہ دیش سے بھارت فرار ہو گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں