Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکہ کا بڑا اقدام، جنوب مشرقی ایشیائی سولر پینلز پر 3521 فیصد تک ٹیرف عائد

امریکہ نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے درآمد کی جانے والی سولر پینلز پر 3,521 فیصد تک ٹیکس عائد کر دیا

امریکی محکمہ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کمبوڈیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور ویتنام سے درآمد کی جانے والی سولر پینلز پر 3,521 فیصد تک کے محصولات (ٹیرف) عائد کرے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق یہ فیصلہ ایک سال طویل تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے جو اس وقت شروع ہوئی تھی جب متعدد بڑی سولر کمپنیوں نے امریکی حکومت سے ان کے مقامی آپریشنز کے تحفظ کی درخواست کی تھی۔

یہ نئے محصولات چین کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی اور مصنوعی طور پر کم قیمت پر مصنوعات فروخت کرنے (ڈمپنگ) کے الزامات کے ردِ عمل میں عائد کیے جا رہے ہیں۔ بعض کمپنیوں، بالخصوص کمبوڈیا میں موجود برآمد کنندگان، کو عدم تعاون پر سب سے زیادہ 3,521 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ملائیشیا میں چینی کمپنی جنکو سولر کی تیار کردہ مصنوعات پر محض 41 فیصد کے قریب ٹیکس عائد کیا جائے گا، جب کہ ایک اور چین میں قائم کمپنی ٹرینا سولر کو تھائی لینڈ میں تیار کردہ مصنوعات پر 375 فیصد محصولات کا سامنا ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ نے حال ہی میں ویتنام، ملائیشیا اور کمبوڈیا کا دورہ کیا تاکہ ان ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے جا سکیں اور امریکی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

امریکی محکمہ تجارت کی رپورٹ کا خیرمقدم امریکن الائنس فار سولر مینوفیکچرنگ ٹریڈ کمیٹی نے کیا ہے، جس نے اس تحقیقات کی درخواست کی تھی۔ تنظیم کے قانونی مشیر ٹم برائٹ بل نے کہا کہ یہ امریکی مینوفیکچرنگ کے لیے ایک فیصلہ کن فتح ہے اور اس بات کی تصدیق ہے کہ چینی کمپنیاں نظام کو دھوکہ دے رہی تھیں۔

2023 میں، امریکہ نے ان چار ممالک سے تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کا سولر ساز و سامان درآمد کیا۔ اگرچہ یہ نئے محصولات امریکی سولر انڈسٹری کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں کاروباروں اور صارفین کے لیے لاگت میں اضافہ بھی متوقع ہے، جو سستے سولر مصنوعات سے مستفید ہو رہے تھے۔

یاد رہے کہ یہ محصولات ان ٹیرفس کے علاوہ ہوں گے جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پہلے ہی لاگو کر چکی ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ان اقدامات سے مزید شدت آ سکتی ہے، جبکہ چین پہلے ہی امریکی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیکس عائد کر چکا ہے اور امریکہ کے خلاف سخت ردعمل کا اعلان کر چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version