چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین کے خلاف عائد تمام یکطرفہ ٹیرف (محصولات) کو مکمل طور پر ختم کرے اور مساوی بنیادوں پر اختلافات کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف اقدامات نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ عالمی تجارتی اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ واقعی سنجیدگی سے مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی برادری اور اندرونی اسٹیک ہولڈرز کی آواز سننی چاہیے۔
چینی وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا کہ موجودہ تجارتی کشیدگی کا آغاز امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر ٹیرف میں اضافے سے ہوا، اس لیے ذمہ داری بھی واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔
ترجمان نے امریکی میڈیا رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ اور چین کے حکام کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر ٹیرف سے متعلق بات چیت ہو رہی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اس وقت ٹیرف کے معاملے پر امریکہ سے کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں چین پر عائد ٹیرف میں کمی سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے اور یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ چینی قیادت کس حد تک “عملی اقدامات” کرتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ یہ فیصلہ چین پر ہے کہ ٹیرف کتنی جلدی ختم ہوں گے۔
