کینیڈا میں ہونے والے عام انتخابات میں وزیر اعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی نے کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مارک کارنی ہی نئی حکومت تشکیل دیں گے۔
یہ انتخابات کینیڈا کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھے جا رہے ہیں، جہاں ٹرمپ مخالف مہم نے مرکزی کردار ادا کیا۔
لبرل پارٹی نے انتخابی مہم میں مارک کارنی کے معاشی تجربے کو اجاگر کرتے ہوئے رائے دہندگان کو باور کروایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سخت معاملات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
کارنی نے اس مہم کے دوران واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ ہمیں توڑنا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ ہمارا مالک بن سکے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے۔
کینیڈا کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی بی سی‘ سمیت کئی ذرائع ابلاغ نے پیشگوئی کی ہے کہ لبرلز اگلی حکومت تشکیل دیں گے، تاہم پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنا ابھی غیر یقینی ہے، کینیڈین پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے 172 نشستوں کی ضرورت ہے۔
لبرل پارٹی کی کامیابی کے ساتھ ہی کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلییور وزیراعظم بننے میں ناکام رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق وہ پارلیمنٹ میں ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران، کارنی نے خود کو جسٹن ٹروڈو سے فاصلہ پر رکھتے ہوئے معیشت پر توجہ دینے کا وعدہ کیا، انہوں نے ٹروڈو کے دور کے بعض پالیسیوں، جیسے کاربن ٹیکس، سے دستبرداری اختیار کی، جسے کئی حلقوں میں مثبت انداز میں لیا گیا۔
جسٹن ٹروڈو کے استعفے کے بعد، لبرل پارٹی کو زبردست عوامی ردعمل کا سامنا تھا لیکن مارک کارنی کی قیادت میں پارٹی نے انتخابی فضا کو اپنے حق میں تبدیل کر لیا۔
کینیڈا کے 41 ملین شہریوں میں سے 29 ملین افراد ووٹ دینے کے اہل تھے، جن میں سے ریکارڈ 7.3 ملین نے پہلے ہی ووٹنگ میں حصہ لیا، اب نظریں حتمی نتائج پر مرکوز ہیں، جو اگلی حکومت کے خدوخال طے کریں گے۔




















