بھارت میں معروف آزاد میڈیا پلیٹ فارم “دی وائیر” کو سچ بیان کرنے پر بلاک کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے یہ اقدام ایک ٹی وی پروگرام میں حساس انکشافات کے بعد کیا، جس میں سابق بھارتی فوجی افسر پراوین سواہنے نے بھارتی افواج سے متعلق چند اہم حقائق سامنے لائے تھے۔
ذرائع کے مطابق، صحافی کرن تھاپر کے انٹرویو پروگرام میں پراوین سواہنے نے دعویٰ کیا کہ بھارت پاک فضائیہ کے ہاتھوں اپنے جیٹ طیاروں کے مار گرائے جانے کی حقیقت کو جھٹلا نہیں سکا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2019 میں بھارتی فوج نے غلطی سے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو میزائل سے تباہ کر دیا تھا، تاہم اس واقعے کو انتخابات کی وجہ سے عوام سے چھپایا گیا۔
سابق افسر کا کہنا تھا کہ بعد ازاں بھارتی فضائیہ نے اس واقعے میں چھ اہلکاروں کی ہلاکت کو تسلیم کیا۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں بھی بھارت کو فوجی نقصانات کا سامنا ہے، جنہیں فی الوقت چھپایا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ ان معلومات کو مخصوص مقاصد کے لیے کسی “موزوں وقت” پر افشا کیا جائے گا۔
دی وائیر پر عائد پابندی کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت حقائق سامنے آنے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق، مودی سرکار اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے سوشل میڈیا اور آزاد پلیٹ فارمز پر مسلسل پابندیاں عائد کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “دی وائیر” پر پابندی سچ سے خوفزدہ حکومت کی جانب سے ایک اور قدم ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کا بیانیہ اب سوالات کی زد میں آ چکا ہے اور اندرونی سطح پر بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
