سعودی وزیرمملکت خارجہ عادل الجبیر نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام پرپابندیاں ہٹانےکے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شام میں تعمیر نوکے نئےمواقع پیداہوں گے۔
سعودی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ عادل الجبیر نے بغداد میں منعقدہ عرب لیگ کے 34 ویں سربراہی اجلاس سے اپنے خطاب میں سوڈان میں فوری اور مکمل سیزفائر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی ثالثی سے سوڈانی فریقین میں مذاکرات کی کوشش جاری ہے۔
سعودی وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ یمن میں امن کے قیام اور بحری جہاز رانی کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان میں ہتھیارصرف حکومتی اداروں تک محدود کیےجائیں، سعودی عرب لبنانی حکومت کی مکمل حمایت جاری رکھےگا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور قطر کا شام کے ورلڈ بینک کا قرض ادا کرنے کا اعلان
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، امداد کی مکمل بحالی ضروری ہے۔
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے اسرائیلی زمینی کارروائیوں میں اضافےپرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انروا کی مالی اور عملی مدد میں فوری اضافہ کیاجائے، غزہ کے عوام کی جبری نقل مکانی کومکمل طورپرمسترد کرتےہیں۔
انتونیو گوتریس نے مزید یہ بھی کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارےکی صورتحال بھی خطرناک ہے، اسرائیلی آباد کاریاں اورالحاق دونوں غیرقانونی ہیں، دوریاستی حل ہی پائیدار امن لاسکتا ہے۔
