دہشت گرداسرائیل کی جانب سےفلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہےوسطی غزہ پر اسرائیلی حملے میں مزید 23 فلسطینی شہید ہوگئے۔
اسرائیل نے وسطی غزہ پر بڑا حملہ کیا جس میں بوریج پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایاگیا جس کے نتیجے میں 23 فلسطینی شہید ہوگئے، غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 64، جبکہ 30 زخمی ہوگئے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق غزہ سٹی میں السرایا جنکشن پر اسرائیلی بمباری سےقانون نافذ کرنےوالےاہلکارنشانہ بنے، اس حملے میں 9 فلسطینی پولیس اہلکارشہید ہوگئے۔
خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں امداد کی تقسیم کےمقامات پر افراتفری پھیلی ہوئی ہے، اسرائیلی فوجیوں کی امداد کےلیے آئےفلسطینیوں پرفائرنگ کے نتیجے میں 3 دن میں 10 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
غزہ پراسرائیلی جارحیت میں شہیدفلسطینیوں کی تعداد 54 ہزار249ہوگئی ہے، جبکہ غزہ پر اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں زخمی فلسطینیوں کی تعداد 1 لاکھ23ہزار 492 ہوگئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نےغزہ میں غیرقانونی بستیاں تعمیرکرنےکااعلان کرتے ہوئے 22 غیرقانونی بستیوں کی منظوری دےدی ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق غاصب اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارےمیں 22 نئی غیرقانونی بستیاں آبادکرےگا، جبکہ فلسطینی حکام نےاسرائیل کی جارحیت کوخطرناک بڑھوتری قراردےدیا۔
فلسطینی اتھارٹی کے مطابق فلسطینی علاقوں پرغیرقانونی قبضہ، بستیاں مقبوضہ علاقوں کی توسیع ہیں، اسرائیل کےنئےقبضےکےمنصوبےسےفلسطینی کسان پریشان ہیں، اس سے فلسطینی کسانوں کی زمینوں تک رسائی مزیدمحدودہونےکاخدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین کے مستقل مندوب غزہ میں جاری انسانی بحران پر خطاب کرتے ہوئے آبدیدہ
فلسطینی کسان یونین کا کہنا ہے کہ نئےاسرائیلی قبضےکامنصوبہ کسانوں کےلیےتباہ کن ہے، اسرائیلی اسپانسرڈیہودی آبادکارکسانوں پرتشددکررہےہیں۔
غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن پر اسرائیلی مفادات کا خدمت گزارہونےکےالزامات کے بعد اقوام متحدہ نےامدادی نظام سےغزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کوالگ کررکھاہے۔
امدادکی تقسیم میں نگرانی کی بنیاد پر پابندیاں، انسانی اصولوں کی خلاف ورزی قراردی جارہی ہیں۔
ترجمان اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے امداد کے سیاسی استعمال پراعتراض کیا ہے۔
دنیا بھر سےامدادی تنظیمیں غزہ میں انسانی بحران پرگہری تشویش کااظہارکررہی ہیں
اقوام متحدہ خصوصی نمائندے کے مطابق امدادکی مقدار بحران کےپیش نظرانتہائی ناکافی ہے، غزہ بھوک، تشدد کاشکارہے عالمی برادری فوری اور مؤثراقدام کرے۔
