ایران کی جانب سے اسرائیل کے وسطی شہر پیٹا ٹکوا پر کیے گئے حملے نے اسرائیلیوں کی چیخیں نکال دیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وسطی شہر پیٹا ٹکوا میں ایران کی جانب سے تازہ حملے کے بعد ایک رہائشی عمارت میں بڑا شگاف پڑگیا جس نے علاقے میں خوف کی فضا قائم کردی۔
حملے میں بچ جانے والے ایک شہری عیدان بار نے اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا ’’میری عمارت پر ایران کی جانب سے بمباری ہوئی۔ یہ بہت خوفناک لمحہ تھا کیونکہ میرے چار بچے ہیں اور چاروں لڑکے ہیں۔
عیدان بار کا کہنا تھا ’’ہم بہت ڈر گئے تھے لیکن شکر ہے سب خیریت سے ہیں‘‘۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمارت کے اندر ریسکیو اہلکار اور امدادی ٹیمیں نارنجی رنگ کی ہیلمٹ پہنے ہوئے تباہ شدہ فلیٹس کی تلاشی لے رہی ہیں جب کہ دھماکے کے باعث ملبہ اور شیشے زمین پر بکھرے ہوئے ہیں۔
ایک اور 39 سالہ رہائشی ہین نے بتایا ’’جیسے ہی سائرن بجے، وہ فوری طور پر پناہ لینے کے لیے بھاگے جس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا اور کچھ دیر بعد جب باہر آئے تو دیکھا ہر طرف تباہی مچی ہوئی تھی اور گھروں کا حال خراب تھا‘‘۔
واضح رہے کہ پیٹا ٹکوا جیسے شہروں میں اس نوعیت کی تباہی اسرائیل میں نسبتاً کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ اسرائیل کا جدید فضائی دفاعی نظام عام طور پر ایسے حملوں کو ناکام بنادیتا ہے۔
