Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکی جارحیت کا جواب ایران کیسے دے گا؟ تین ممکنہ آپشنز زیرغور

تہران: امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد، ایران کے ممکنہ ردعمل سے متعلق ایرانی تھنک ٹینک “سینٹر فار مڈل ایسٹ اسٹریٹجک اسٹڈیز” سے وابستہ سینئر ریسرچ فیلو عباس اصلانی نے تین ممکنہ منظرناموں کا تجزیہ پیش کیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں عباس اصلانی نے کہا کہ پہلا منظرنامہ “محدود ردعمل” کا ہو سکتا ہے، جس کا دائرہ حملے سے ہونے والے نقصان کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہوگا۔

 ان کے مطابق اگرچہ یہ حملہ جوہری تنصیبات پر تھا لیکن اس سے بڑھ کر یہ براہِ راست ایران کے خلاف امریکی جنگ میں شمولیت کا اعلان سمجھا جا رہا ہے، جس سے ایران بارہا خبردار کر چکا ہے۔

سینئر ریسرچ فیلو کے مطابق دوسرا منظرنامہ “مکمل جنگ” کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس میں ایران نہ صرف امریکا بلکہ اسرائیل کے مفادات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ردعمل وسیع پیمانے پر ہو سکتا ہے، جس میں اسرائیل کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے علاوہ ایران کے علاقائی اتحادی بھی میدان میں آ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا

عباس اصلانی نے بتایا کہ تیسرا منظرنامہ ایک “امتزاجی حکمتِ عملی” ہوسکتی ہے جس میں ایران بظاہر محدود نوعیت کے اقدامات کرے لیکن ان کے تزویراتی اثرات بڑے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے جیسے اقدامات کر سکتا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی پر شدید اثر ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب کئی دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا ردعمل حملے میں ہونے والے نقصان اور اس کے سیاسی مفہوم پر منحصر ہوگا۔

خطے میں پہلے سے بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ان تینوں منظرناموں نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے اور ماہرین کے مطابق آئندہ چند دن خطے کے مستقبل کا رخ طے کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں