دنیا کے معروف صنعتکار اور ٹیسلا و ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے سربراہ ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ اخراجاتی بل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس میں سرکاری قرض کی حد میں ریکارڈ 5 ٹریلین ڈالر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایلون مسک نے بل کو “پاگل پن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی ملک کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، ایسے فیصلے نہ صرف ملکی قرض کو بڑھائیں گے بلکہ عوام پر بوجھ بھی ڈالیں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایلون مسک نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک نئی سیاسی جماعت وجود میں آئے جو حقیقی معنوں میں عوام کے مسائل کو سمجھے اور ان کا خیال رکھے۔
واضح رہے کہ ایلون مسک پہلے بھی امریکی سیاسی نظام اور دو پارٹیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور اب وہ ایک متبادل سیاسی بیانیے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔




















