Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت کاایٹمی پروگرام جنوبی ایشیا کے امن کے لئے بڑا خطرہ

بھارت کاایٹمی پروگرام جنوبی ایشیا کے امن کے لئے بڑا خطرہ ہے ۔ یہ بات  اسٹرٹیجک اینڈ ڈیفنس اسٹڈیز سینٹر آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ڈاکٹر منصور احمد نےکہی ۔

بھارت کاایٹمی پروگرام کو جنوبی ایشیا میں  طاقت کا توازن بگاڑنے اور چین کی سیکیورٹی کےلئے  بھی خطرناک ہے۔

ان کا کہناتھاکہ پاکستان کا میزائل پروگرام 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تنقید اورمنفی ردعمل کا شکاررہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے پروگرام پر انگلیاں اٹھانے کی بنیادی وجہ دراصل جنوبی ایشیا میں  ایٹمی پھیلاؤ کے بہت بڑے خطرات سے توجہ ہٹانا ہے۔

یعنی ہندوستان کے ایٹمی پروگرام سے جوکہ اگرچہ سویلین ہے لیکن  اس سے خطے کو زیادہ خطرات ہیں مگر IAEA کی جانب سے اس پر تحفظات ظاہر نہیں کیے جاتے۔

ڈاکٹر منصور احمد کے مطابق ہندوستان کے پاس 11 ٹن پلوٹونیم موجود ہے،یہ سویلین پلوٹونیم ہے۔

ان کا کہناتھاکہ بھارت کا یورینیم افزودگی کا پروگرام بھی ہے ان کے پاس تقریباً 6 ٹن اعلیٰ یورینیم افزودگی  پروگرام کی گنجائش بھی ہے۔

علاوہ ازیں ان کے پاس اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو مزید اپ گریڈ کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔

دریں اثنا بھارت کی موجودہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت 26 کلو سالانہ ہے۔

بھارت نے فاسٹ فیڈرری ایکٹرزکومزیدوسعت دینے کا بھی پروگرام بنارکھا ہے

ڈاکٹر منصور احمد کے مطابق بھارت نے 5 سے 6 فاسٹ فیڈرری ایکٹرزکومزیدوسعت دینے کا بھی پروگرام بنارکھا ہے۔

اس پروگرام کو وسعت دینے کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی یورینیم افزودگی کی صلاحیت ایک ہزارکلو گرام سالانہ ہوجائے گی۔

جبکہ ایٹمی ہتھیارکو اپ گریڈ کرنے کی صلاحیت بھی مزید بڑھ جائے گی۔

 

بھارتی یورینیم افزودگی اورہتھیاروں کی اپ گریڈیشن دنیا کاسب سے بڑا پروگرام

انہوں نے کہاکہ اس طرح یہ یورینیم افزودگی اورہتھیاروں کی اپ گریڈیشن کا دنیا کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔

ڈاکٹر منصور احمد نے جنوبی ایشیا میں بھارت کے ایٹمی پروگرام پر توجہ نہ دینے کو چین کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی ایک بڑا خطرہ قراردیا۔

ان کا کہناتھاکہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے میزائل پروگرام پر انگلیاں اٹھا کر بھارت کے ایٹمی پروگرام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ انہوں نے کہاکہ بھارت کاایٹمی پروگرام جنوبی ایشیا کے امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

متعلقہ خبریں