قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے ہونے والے ابتدائی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔
فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وفد کے پاس مذاکرات میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا، جس کے باعث بات چیت میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہو سکی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ہفتے کی شب ایک بیان میں کہا تھا کہ حماس کی حالیہ شرائط اسرائیل کے لیے ناقابل قبول ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ایک اعلیٰ سطحی وفد قطر بھیج رہے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جا سکے۔
دوسری جانب چند روز قبل حماس نے قطر اور امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مجوزہ معاہدے پر مثبت ردعمل دیا تھا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 دن کی جنگ بندی کے لیے بنیادی شرائط تسلیم کر لی ہیں۔
انہوں نے نیوجرسی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں رواں ہفتے حماس کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی امید ہے اور ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی رہا ہو جائیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ نیتن یاہو اور ایران کے ساتھ مستقل معاہدے کے امکانات پر بھی بات کریں گے۔




















