ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ دوحا میں امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کل دوحہ میں قطری حکام کے ساتھ منجمد اثاثوں (فروزن فنڈز) کے معاملے پر بات کرے گا۔
ترجمان نے آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتی ہوئی بیرونی مداخلت پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں کسی بھی بیرونی کردار سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور ایران کے مطابق اس معاملے میں کسی غیر ملکی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کے روز ثالث ممالک کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر بھی بات چیت متوقع ہے جس میں مختلف سفارتی امور زیر غور آئیں گے۔
بقائی کے مطابق ایران اپنی علاقائی پالیسیوں اور حساس آبی گزرگاہوں کے حوالے سے خودمختار مؤقف پر قائم ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔




















