امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حالیہ عدالتی فیصلوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے بعض فیصلوں کو امریکا کے لیے تباہ کن اور امریکی تاریخ کا سیاہ باب قرار دے دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ پر امریکا کو نقصان پہنچانے اور ریپبلکنز کو بڑا دھچکا دینے کا الزام عائد کردیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ریپبلکنز کو سپریم کورٹ سے ایک اور برا فیصلہ ملا، جسے سنانے میں عدالت نے بہت زیادہ وقت لیا اور پھر اس تاخیر کی ایک وجہ یہ بتائی کہ میل اِن ووٹنگ کے نظام میں تبدیلی کے لیے وقت باقی نہیں بچا تھا۔
امریکی صدر نے میل اِن ووٹنگ کو انتہائی کرپٹ اور قابو سے باہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام پوری دنیا میں مذاق بنا ہوا ہے۔ ان کے بقول امریکا ہی واحد ملک ہے جسے ایسے ’’ملک تباہ کرنے والے فراڈ‘‘ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے ججز جسٹس سیموئیل الیٹو اور جسٹس کلیرنس تھامس کی حمایت کرتے ہوئے انہیں لیجنڈ قرار دیا اور کہا کہ دونوں نے اس خوفناک اور انتہائی سیاسی فیصلے سے سخت اختلاف کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیصلہ ریپبلکنز اور امریکا کے لیے بڑا نقصان ہے اور اس سے ریڈیکل بائیں بازو کے ڈیموکریٹس کے لیے میل اِن بیلٹس میں مبینہ دھاندلی کرنا مزید آسان ہوگیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اب ان عناصر کے لیے ایسا کرنے کا کھلا میدان موجود ہے اور سپریم کورٹ نے امریکا کو مایوس کیا ہے۔ ان کے مطابق بعض ججز ریڈیکل ڈیموکریٹس سے خوفزدہ ہیں اور امریکا کو بچانے کے لیے درکار جرات کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے۔
امریکی صدر نے ٹیرف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ اس فیصلے سے امریکا کو آنے والے کئی برسوں میں کھربوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ عدالت نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ پہلے ادا کی گئی رقم واپس نہیں کی جائے گی، جس سے ان کے بقول ایسے اداروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو امریکا سے نفرت کرتے ہیں اور برسوں سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں امریکا کو فوری طور پر بھی اربوں ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔
پیدائشی شہریت کے معاملے پر بھی ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو امریکا کے لیے مکمل تباہی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے بعد ملک میں شہریت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا راستہ کھل گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان فیصلوں سے امریکا کو پہنچنے والا نقصان ناقابلِ حساب اور ناقابلِ تلافی ہے، جبکہ عدالت کی جانب سے ملک کے لیے درست فیصلہ کرنے میں ناکامی تاریخ میں انتہائی منفی انداز میں یاد رکھی جائے گی۔
امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کو ریڈیکل بائیں بازو کی جانب سے دباؤ اور اثرانداز ہونے کی کوششوں کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ایسے فیصلے کیے گئے جنہوں نے امریکا کو کم از کم 100 سال پیچھے دھکیل دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ سپریم کورٹ وہ عدالت نہیں جس کے ججز کا انہوں نے انتخاب یا انٹرویو کیا تھا بلکہ یہ اپنے اصل کردار کا صرف ایک سایہ رہ گئی ہے۔ ان کے بقول عدالت کے انتہائی نقصان دہ فیصلے امریکا کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملک کے لیے ان نقصانات سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے موجودہ سپریم کورٹ کو امریکی تاریخ کے بعض انتہائی تباہ کن، تکلیف دہ اور نقصان دہ فیصلوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پر تنقید کرنا ان کے لیے آسان نہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اس تنقید کی انہیں آنے والے برسوں میں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
تاہم ٹرمپ نے کہا کہ بطور صدر وہ اپنے ملک اور امریکی عوام سے محبت کی وجہ سے سپریم کورٹ پر تنقید کرنا اپنا فرض اور ذمہ داری سمجھتے ہیں۔



















