ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے 7 شرائط پیش کردیں اور واضح کیا کہ عمان کے ساتھ کل ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔
روسی میڈیا کے مطابق ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو 7 شرائط سے آگاہ کیا ہے تاہم ان شرائط کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا پر واضح کردیا ہے کہ اگر شرائط پوری نہ کی گئیں تو آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران پیر کو مسقط میں ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں عراق اور خلیجی ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق متعلقہ ممالک کو اجلاس میں مدعو کرنے کا مقصد نئے بحری راستے اور ٹرانزٹ کے انتظامات سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرنا ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخلے کا راستہ مکمل طور پر ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا جبکہ خلیج فارس سے خارجی راستہ جزوی طور پر ایرانی پانیوں سے گزرے گا۔
معاہدے کے تحت ٹرانزٹ ایرانی پروٹوکول کے مطابق ہوگا جبکہ جنوبی راستہ جسے کھولنے پر امریکا اصرار کررہا ہے وہ بند کردیا جائے گا۔




















