امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کی جانب سے غزہ کی ابتدائی بحالی اور تعمیر نو کے لیے 2.45 ارب ڈالر کا چھ ماہ کا منصوبہ پیش کیے جانے کی توقع ہے جس میں عارضی رہائش، ملبہ ہٹانے، اسپتالوں کی مرمت، معاشی بحالی اور بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی سمیت 66 منصوبے شامل ہیں۔
معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق یہ منصوبہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ منصوبے میں غزہ کو درپیش جسمانی نقصان کا تخمینہ 35.2 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ مکمل بحالی اور تعمیر نو کے لیے آئندہ 10 برس میں تقریباً 71.4 ارب ڈالر درکار ہونے کا اندازہ پیش کیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق تقریباً ایک ارب ڈالر بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں کے لیے مختص کیے جائیں گے، جن میں عارضی رہائش، ملبہ اور ممکنہ غیر پھٹے ہوئے اسلحے کو ہٹانا، اسپتالوں کی بحالی اور سڑکوں کی مرمت شامل ہے۔
غزہ کے سرحدی گزرگاہوں کی مرمت، بجلی اور پانی کا نظام بحال کرنے، 25 ہزار قابلِ منتقلی سولر پاور کٹس فراہم کرنے اور اہم تعمیراتی مقامات کے نیچے موجود سرنگوں کو مستقل طور پر بند کرنے کی تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔
سکیورٹی سے متعلق منصوبوں کے لیے تقریباً 885 ملین ڈالر مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں رفح میں 5 ہزار اہلکاروں کی گنجائش رکھنے والے مستقل مرکز کے قیام، کثیر ملکی سکیورٹی دستے کی بھرتی، تربیت اور تعیناتی جبکہ فلسطینی پولیس کی تیاری کے لیے فنڈز شامل ہیں۔
متاثرہ اور بے گھر فلسطینیوں کو خیموں سے منتقل کرنے کے لیے تقریباً 400 ملین ڈالر کی عارضی رہائش بھی منصوبے میں شامل ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے پروگراموں کے لیے تقریباً 300 ملین ڈالر مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔
منصوبہ صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں بلکہ غزہ میں انتظامی ڈھانچے اور معیشت کی بحالی کے لیے ڈیجیٹل شناخت، ڈیجیٹل ادائیگیوں، 4G کنیکٹیویٹی، الیکٹرانک صحت و تعلیمی نظام، چھوٹے کاروباروں کی بحالی اور سرمایہ کاری فنڈ جیسے اقدامات بھی شامل کرتا ہے۔
تاہم 2.45 ارب ڈالر کی مکمل رقم تاحال جمع نہیں ہوئی۔ بورڈ آف پیس اور فلسطینی تکنوکریٹک حکومت کا کہنا ہے کہ سیاسی رکاوٹیں دور ہونے کے بعد عطیہ دینے والے ممالک مختلف منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اسرائیل اور حماس کے تعاون سمیت متعدد سیاسی اور سکیورٹی معاملات کا حل ضروری ہے، جبکہ گزشتہ عرصے میں اس عمل میں رکاوٹیں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
