نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کی بحث کا آغاز ہوگیا، سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطاب میں دنیا کو درپیش بڑھتے ہوئے تنازعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کی بحث کا آغاز ہوگیا جس سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ حالیہ دنوں میں دنیا کی فالٹ لائنز میں کریک پڑرہے ہیں جب کہ جنگوں کے دوران شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور انسانی حقوق کو پامال کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ جنگوں کے دوران بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا جب کہ گزشتہ دہائی میں شروع ہونے والی جنگیں ہولناک درندگی کے ساتھ جاری رہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے امن حاصل نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح صرف معاشی طاقت بھی اکیلے استحکام نہیں لاسکتی۔
انتونیو گوتریس کے مطابق ٹیکنالوجی کی طاقت بھی اکیلے سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتی، دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے مضبوط اور مؤثر اداروں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر، اصولوں اور عالمی قوانین کی پاسداری لازمی ہے، موجودہ صورتحال میں عالمی قوانین کی پاسداری پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔
یو این سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ آنے والی نسلوں کے لیے عالمی برادری کو اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
