یورپ کے مختلف ممالک میں جمعرات کی صبح مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد فضائی سفر میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیل گیا، متعدد پروازوں کا رخ تبدیل کرکے انہیں متبادل ہوائی اڈوں پر اتارا گیا، تاہم فوری طور پر کوئی دھمکی درست ثابت نہیں ہوئی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق رواں ہفتے دوسری مرتبہ یورپی ایئرلائنز کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ آئرش ایئرلائن کی ڈبلن سے روم جانے والی پرواز کو سیکیورٹی خدشات کے باعث پیرس سے تقریباً 100 کلومیٹر دور ایورو ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔
بلغاریہ میں تین طیاروں کو بم کی دھمکیاں ملنے پر ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ ان میں کوپن ہیگن اور میڈرڈ سے آنے والی پروازیں صوفیہ جبکہ لندن سے آنے والا طیارہ پلوودیف ایئرپورٹ پر اترا۔
چیک پولیس کے مطابق پراگ جانے والی چار پروازوں کو بھی بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں، تاہم حکام نے ان دھمکیوں کو کم خطرے کا حامل قرار دیا۔
ادھر فن لینڈ کی ایئرلائن فن ایئر کی ایک پرواز کو اٹلی کی فضائیہ نے روم تک حفاظتی حصار میں پہنچایا جبکہ دوسری پرواز معمول کے مطابق ویانا میں اتری۔ پولینڈ کی ایئرلائن لوٹ کی وارسا سے برسلز جانے والی پرواز بھی بحفاظت منزل پر پہنچ گئی، جبکہ پیرس جانے والی پرواز کو ٹیک آف سے قبل روک لیا گیا اور مسافروں کو احتیاطاً دوسرے طیارے میں منتقل کردیا گیا۔
تاحال کسی ملک نے ان دھمکیوں کے پیچھے کسی فریق کو ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب یورپی حکام روس اور ایران پر ہائبرڈ حملوں اور تخریبی کارروائیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔



















