خیر المدارس ملتان کی جائیداد کے تنازع سے متعلق جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کا نام غیر قانونی قبضے کے معاملے میں بھی سامنے آگیا۔
ملتان میں واقع خیر المدارس کی جائیداد سے متعلق غیر قانونی قبضے اور انتظامی کنٹرول کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق خیر المدارس ملتان پر غیر قانونی قبضہ ہے اور اسے فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود چلا رہے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق مدرسے کے سامنے چند دکانیں بھی تعمیر کی گئی ہیں جن سے حاصل ہونے والی آمدن کے اسعد محمود کی تحویل میں جانے کا دعویٰ ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مذکورہ جائیداد سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ مبینہ غیر قانونی قبضے کے معاملے پر تاحال زیرِ التوا بتایا گیا ہے اگر جائیداد پر غیر قانونی قبضہ ثابت ہوتا ہے تو اسے متعلقہ مدرسہ بورڈ کے حوالے کرنے کا قانونی تقاضا زیرِ بحث آئے گا۔
اس معاملے میں پنجاب کے محکمہ مال، اوقاف اور مذہبی امور کے محکمے اور مدرسہ بورڈ کو درج ذیل سوالات کا جواب دینا چاہیے:
* خیر المدارس ملتان کی اصل قانونی ملکیت کس کے نام ہے؟
* مدرسے کے انتظامی اور مالی معاملات کا اختیار کس کے پاس ہے؟
* اسعد محمود کو مدرسے کا انتظام چلانے کا قانونی اختیار کس بنیاد پر حاصل ہے؟
* مدرسے کے سامنے تعمیر ہونے والی دکانوں کی ملکیت اور آمدن کا مستحق کون ہے؟
* کیا مدرسے کی آمدن اور جائیداد کا استعمال اس کے اصل مقاصد کے مطابق ہورہا ہے؟
* اگر قبضے سے متعلق الزامات درست ہیں تو متعلقہ حکام نے اب تک کیا قانونی کارروائی کی ہے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت، محکمہ مال اور مدرسہ بورڈ مکمل ریکارڈ کی روشنی میں معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔ اگر غیر قانونی قبضہ ثابت ہوجاتا ہے تو عدالتی احکامات اور قانون کے مطابق جائیداد کا انتظام متعلقہ ادارے کے حوالے کیا جائے۔
اہم سوال: کیا ایک دینی مدرسے کی جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کے معاملات شفاف ہیں یا اس کے انتظامی کنٹرول اور مالی وسائل کے استعمال پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں؟


















