Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چین کے وزیر خارجہ کے بعد وزیر دفاع بھی منظر عام سے غائب

چند ماہ قبل چین کے وزیر خارجہ کے منظر عام سے غائب ہونے کے بعد اب وزیر دفاع بھی عوامی سطح پر غائب ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار نے چین کے وزیر دفاع لی شانگ فو کی غیر موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے بدعنوانی کے ممکنہ خاتمے کی قیاس آرائیوں کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔

جنرل لی کو تقریبا دو ہفتوں سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا ہے اور مبینہ طور پر وہ کئی ملاقاتوں میں شرکت نہیں کر سکے ہیں۔

جاپان میں امریکہ کے سفیر رحم ایمانوئل نے مسٹر لی کی غیر موجودگی پر قیاس آرائیاں کرتے ہوئے طنزیہ ٹویٹ کیا کہ چینی حکومت میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔

چینی وزیر دفاع کی غیر موجودگی کئی اعلیٰ فوجی عہدیداروں کی برطرفی کے بعد سامنے آئی ہے۔

معروف امریکی جریدے نے امریکہ اور چین کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے جمعے کے روز خبر دی تھی کہ وزیر دفاع لی شانگ فو کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔

یہ وزیر خارجہ کن گینگ کے عوام کی نظروں سے غائب ہونے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ جولائی میں وزیر خارجہ کن گینگ کی اچانک غیر موجودگی اور متبادل کی ابھی تک مکمل وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

وزیر دفاع لی شانگ فو کے معاملے میں بھی چینی حکومت نے زیادہ کچھ نہیں کہا۔ اس ہفتے کے اوائل میں جب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ صورتحال سے آگاہ نہیں ہیں۔

وزیر دفاع لی شانگ فو آخری بار تین ہفتے قبل یعنی 29 اگست کو بیجنگ میں افریقی ممالک کے ساتھ ایک سکیورٹی فورم میں شریک ہوئے تھے۔ وزیر دفاع کا چند ہفتوں تک عوام کی نظروں سے غائب رہنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

وزیر دفاع لی شانگ فو ایک ایرو اسپیس انجنیئر ہیں جنہوں نے سیٹلائٹ اور راکٹ لانچ سینٹر سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا، انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر فوجی اور چینی سیاسی اشرافیہ کی صفوں میں اپنا مقام بنایا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر خارجہ کی طرح وہ بھی صدر شی جن پنگ کے پسندیدہ شخص سمجھے جاتے ہیں۔ وزیر خارجہ کے بعد وہ دوسرے کابینی وزیر اور ریاستی کونسلر بھی ہیں جو حالیہ مہینوں میں لاپتہ ہوئے ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں