وزیر خزانہ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی منطوری دے دی، ای سی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ قیمت بڑھنے کی صورت میں چینی کی ایکسپورٹ روک دی جائے گی۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کمیٹی نے آوٹ سٹینڈنگ کسٹم ڈیوٹیز کی ضروریات کے لیے 127 ملین رقم کی منظوری دی اور ایوان صدر کے ملازمین کے اخراجات کے لیے 29 ملین روپے کی منظوری دی۔
ای سی سی نے وزارت صحت کے لیے پانچ ارب چالیس کروڑ رقم کی منظوری دی، کشمیر اور گلگت بلتستان کےلیے چار ارب بانوے کروڑ روپے کی منطوری دی جب کہ پاسکو کے بقاجات کے لیے 6ارب 59 کروڑ 60لاکھ روپے کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ کمیٹی نے ہاوسنگ اینڈورکس کے بقایاجات کے لیے 370 ملین روپے گرانٹ، وویمن انکلوسو فنانس پراجیکٹ کے لیے 14ارب 25 کروڑ روپے اور فنانس ڈویژن کے آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے لیے 97 ملین روپے کی منطوری دی۔
اجلاس میں گرین ٹورزم پاکستان پراجیکٹ کے لیے پانچ ارب روپے کی منظوری کا فیصلہ کیا گیا اور وزارت دفاع کےرواں مالی سال کا شارٹ فال پورا کرنے کے لیے 24ارب کی منطوری دی گئی۔




















