روسی سفیر البرٹ خوریف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ روس اپنی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر اہداف کا تعین کرے گا اور ایسی ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے جو اپنی سرزمین پر حملے کے لیے اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین بحران کے دوران بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر روس نے اپنے نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں ترمیم کی ہے، جس میں خطرات کی فہرست کو وسیع کیا گیا ہے۔
روس کے مطابق، مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کرنے پر روس نے جواب میں کارروائی کی ہے اور 21 دسمبر کو ہائپرسونک اویشنک میزائل یوکرین پر حملے کے لیے استعمال کیا۔
روسی سفیر نے کہا کہ امریکہ یوکرین میں جاری تنازعے کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہا ہے، چاہے وہ غیر ملکی کرائے کے فوجیوں کی فراہمی ہو یا سیٹلائٹ انٹیلیجنس فراہم کرنا۔
ان کے مطابق، یوکرین کو ڈپلیٹڈ یورینیم بموں اور ممنوعہ بارودی سرنگوں جیسے تباہ کن ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے۔
روس نے یہ بھی بتایا کہ مغربی ممالک نے حکمت عملی کے تحت یوکرین کو نیٹو میں شامل کیا، جس سے روس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔
روسی سفیر کا کہنا تھا کہ یوکرین روس کے خلاف میدان جنگ بن چکا ہے، جو روس کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
تاہم، خوریف نے کہا کہ روس بحران کے حل کے لیے سفارتی اور مذاکراتی عمل پر تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روس کی طرف سے جنگ روکنے کی تجاویز کے جواب میں یوکرینی حکومت نے کرسک پر حملہ کیا، اور یوکرین کی فوج نے صحافیوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جو کہ دہشت گردوں کے طرز عمل کی مثال ہے۔
روسی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کا حل بنیادی وجوہات کو ختم کیے بغیر ممکن نہیں، اور عالمی برادری کو روس کے تحفظات کو سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے شام میں یوکرینی جنگجوؤں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی، تاہم انہوں نے کہا کہ ہیت تحریر الشام کو یوکرین نے ڈرونز فراہم کیے ہیں۔
خوریف نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کے ساتھ تذویراتی سمجھوتے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کو تیسرے فریق کے خلاف مدد فراہم کر سکتے ہیں۔




















