جاپان کی اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی نئی تحقیق کے مطابق ڈبل روٹی کھانے سے جسمانی وزن اور چربی میں اضافہ ہوسکتا ہے، چاہے کیلوریز کی مقدار ایک جیسی ہی کیوں نہ رہے۔
محققین نے چوہوں پر تجربہ کیا جس میں انہیں ایک طرف صحت بخش اناج والی خوراک دی گئی اور دوسری طرف سادہ ڈبل روٹی یعنی پکی ہوئی گندم کے آٹے والی یا پکے ہوئے چاول کے آٹے والی دی گئی۔
چوہوں نے زیادہ کاربوہائیڈریٹ والی غذاؤں کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں خاص طور پر نر چوہوں کا وزن بڑھا اور ان میں چربی کی مقدار زیادہ ہوگئی۔
محققین نے دریافت کیا کہ گندم کا آٹا کھانے سے جسم میں توانائی خرچ کرنے کی شرح کم ہوجاتی ہے اور میٹابولزم اس حالت میں چلا جاتا ہے جہاں چربی جمع ہونے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
محققین بتاتے ہیں کہ خون کے نمونوں سے ہارمونز، شوگر اور دیگر مادوں کی سطح چیک کی گئی جب کہ جگر میں جینز کے اظہار کا بھی جائزہ لیا گیا۔
جب چوہوں کو دوبارہ صحت بخش خوراک دی گئی تو وزن بڑھنا رک گیا اور میٹابولزم میں ہونے والی تبدیلیاں بھی واپس معمول پر آگئیں۔
محقق شگینوبو ماتسومورا کے مطابق وزن میں اضافہ ڈبل روٹی کے مخصوص اثرات کی بجائے کاربوہائیڈریٹ کی شدید خواہش اور اس سے جڑی میٹابولک تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ خوراک ہمارے جسم میں کیلوریز جلانے کے عمل کو تبدیل کرسکتی ہے۔ ڈبل روٹی جسم کی توانائی خرچ کرنے کی شرح کو سست کردیتی ہے۔
تاہم یہ تجربہ چوہوں پر کیا گیا انسانوں پر نہیں۔ محققین اب انسانوں پر تحقیق کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ سارا اناج بغیر چھنا ہوا اناج، ریشہ دار غذائیں، پروٹین، چکنائی، کھانے پکانے کے طریقے اور کھانے کا وقت کاربوہائیڈریٹ کے اثرات کو کیسے بدلتے ہیں۔




















