چین نے انسان کی ایک درینہ خواہش پوری کرتے ہوئے ایک ایسا دیوہیکل روبوٹ تیار کیا ہے جس میں بیٹھ کرکوئی بھی شخص آسانی سے اسے چلا سکتا ہے۔
چین کی یونی ٹری نامی کمپنی نے حال ہی میں جی ڈی 01 نامی دنیا کا پہلا ’’پروڈکشن ریڈی‘‘ یعنی بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے کے قابل انسان بردار ٹرانسفارم ایبل میکا متعارف کرایا ہے جس کی ابتدائی قیمت 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے۔
“یاد رہے کہ میکا ایسے بڑے انسان کے ذریعے چلائے جانے والے انسانی شکل یا کئی ٹانگوں والے مشینی روبوٹس ہوتے ہیں جو خاص طور پر سائنس فکشن فلموں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں لفظ میکا ’’مکینیکل ‘‘ سے نکلا ہے اور اس میں مختلف قسم کی مشینیں شامل ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی نوجوان اپنی سابقہ محبت کے ڈیجیٹل ورژن بنانے لگے
چین کی یہ روبوٹکس کمپنی پہلے ہی جدید ہیومنائیڈ روبوٹس بنانے کے حوالے سے کافی شہرت رکھتی ہے جو مارشل آرٹس، ایکروبیٹکس اور دیگر حیرت انگیز حرکات انجام دے سکتے ہیں تاہم کمپنی نے اس بار ایک حقیقی ’’میکا‘‘ پیش کر کے جسے انسان خود اندر بیٹھ کر چلا سکتا ہے سب کو حیران کر دیا۔

سائنس فکشن کے شوقین افراد کئی دہائیوں سے ایسے ’’گن ڈم‘‘ یا پیسیفک رم طرز کے میکانیکل سوٹس کے خواب دیکھتے آئے ہیں جنہیں انسان خود کنٹرول کر سکے اگرچہ ماضی میں بھی کچھ حقیقی میکا بنانے کی کوششیں ہوئی تھیں لیکن یونی ٹری کا جی ڈی01 اب تک کا سب سے جدید اور متاثر کن ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں وانگ زنگ زنگ کو اس میکا کی ڈرائیور سیٹ میں بیٹھتے اور اسے چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں وہ جی ڈی 01 کے ذریعے دیواریں توڑتے اور مختلف حرکات کرتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ اس میکا کی تمام صلاحیتیں ابھی ظاہر نہیں کی گئیں لیکن اسے اب تک کا سب سے جدید حقیقی میکا سمجھا جا رہا ہے۔
یہ حیرت انگیز میکا تقریباً 2.7 میٹر اونچا ہے اور انسانی آپریٹر سمیت اس کا وزن لگ بھگ 500 کلوگرام ہے اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک بٹن دبانے پر دو ٹانگوں والےبائی پیڈل سے چار ٹانگوں والے کواڈر پیڈل موڈ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس یونی ٹری کے اس جی ڈی 01 کو دنیا کا پہلا ایسا انسان بردار میکا قرار دے رہی ہے جو بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے تیار ہے۔
اس کی قیمت تقریباً 39 لاکھ چینی یوآن (6 لاکھ 50 ہزار ڈالر) رکھی گئی ہے جس پر کئی لوگوں نے تنقید کی کہ یہ عام شوقین افراد کی پہنچ سے باہر ہے تاہم کمپنی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ پیداواری عمل کو مزید بہتر بنا کر قیمت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ جی ڈی 01 کی باضابطہ فروخت کی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی لیکن یونی ٹری کی اس نئی تخلیق نے دنیا بھر میں زبردست توجہ حاصل کر لی ہے۔بہت سے لوگ اپنے ذاتی گن ڈم جیسے میکانیکل سوٹ کے خواب پورے ہونے پر پرجوش ہیں جبکہ کچھ ناقدین نے اس کے عملی استعمال، اندر داخل ہونے اور باہر نکلنے میں مشکلات، اور بیٹری لائف جیسے مسائل کی نشاندہی بھی کی ہے۔




















