Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تحریری حکم نامہ جاری؛ بانی پی ٹی آئی کو دو روز میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم

بانی پی ٹی آئی کی ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے ملاقات کرائی جائے گی، حکم نامہ

اسلام آباد: عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے آج ہونے والے مقدمات کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے انہیں دو دن کے اندر شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت کے تحریری حکم نامے کے مطابق شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے جنرل فزیشن، جنرل سرجن اور آئی اسپیشلسٹ پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنایا جائے۔

حکم نامے میں کارڈیالوجسٹ اور میڈیسن اسپیشلسٹ کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ عدالت نے ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ باب کو بھی میڈیکل بورڈ کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیا ہے۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنلاہسپتال کے اخراجات بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ ادا کریں گے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ اور پارٹی ارکان صحت سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں گے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے ملاقات کرائی جائے گی جب کہ ہفتے میں دو دن بچوں سے بات بھی کرائی جائے۔

عدالت نے اسپتال کے باہر کسی سیاسی اجتماع کو نہ ہونے دینے کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں دیا گیا ریلیف واپس لیا جاسکتا ہے۔

حکم نامے کے مطابق حکومت کو لگے کہ ریلیف کا غلط استعمال ہورہا ہے تو وہ درخواست دے سکتی ہے جب کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے اہلخانہ بھی شکایت کی صورت میں درخواست دے سکتے ہیں۔

عدالت نے حکومت کو اسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جب کہ بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے آج تک اہلخانہ سے ملاقاتوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ مقدمے کی مزید سماعت 16 ستمبر کو ہوگی۔

یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف ایڈووکیٹ کے مطابق عمران خان کے خلاف 200 سے زائد مقدمات درج ہیں۔

عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کردی۔ سائفر کیس میں 10 سال قید کی سزا کو بھی ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ نکاح کیس میں 7 سال سزا ہوئی تھی جس میں وہ اور ان کی اہلیہ بری ہوگئے تھے۔ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس ٹو میں بھی احتساب عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنائی گئیں جن کے خلاف اپیلیں اور سزاؤں کی معطلی کی کارروائیاں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

متعلقہ خبریں