Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایک دہائی قبل خواب سمجھی جانے والی 7 حیرت انگیز طبی ایجادات

جو چیزیں کچھ عرصہ پہلے سائنس فکشن لگتی تھیں ان میں سے کچھ اب حقیقی مریضوں کے علاج اور کلینیکل تجربات کا حصہ بن چکی ہیں

گزشتہ چند برسوں کے دوران طبی سائنس میں کئی ایسی حیرت انگیز پیش رفت ہوئی ہے جو تجرباتی تصورات سے آگے بڑھ کر حقیقی مریضوں کے علاج تک پہنچ رہی ہیں۔

جینیاتی بیماریوں کو ان کی جڑ سے درست کرنے والی جین ایڈیٹنگ سے لے کر زندہ حیاتیاتی امپلانٹس اور لیبارٹری میں تیار کیے گئے اعضا تک یہ ٹیکنالوجیز اس راز سے پردہ اٹھا رہی ہیں کہ جدید طب کیا کچھ کر سکتی ہے۔

یہاں ایسی سات انتہائی دلچسپ طبی ایجادات پیش کی جا رہی ہیں جو آنے والے برسوں میں صحت کے شعبے کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتی ہیں۔

 خراب جین کو درست کرنے والی دوا

سی آر آئی ایس پی آر ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو انسان کے جینز میں تبدیلی کر سکتی ہے۔کیس گیوی نامی علاج کے ذریعے بعض خون کی بیماریوں کا علاج جین میں تبدیلی کر کے کیا جا رہا ہے۔

اس طریقے میں مریض کے کچھ خلیے جسم سے نکالے جاتے ہیں، ان کے جین میں تبدیلی کی جاتی ہے اور پھر انہیں دوبارہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ یعنی اب ڈاکٹر صرف بیماری کی علامات کم کرنے کے بجائے بیماری کی جینیاتی وجہ کو درست کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

 ہر مریض کے لیے الگ کینسر ویکسین

عام ویکسین سب لوگوں کے لیے تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن نئیایم آر این اے کینسر ویکسین مریض کے اپنے کینسر کے مطابق تیار کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر پہلے مریض کے ٹیومر کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کینسر کے خلیوں میں کون سی خاص تبدیلیاں ہیں پھر ایسی ویکسین بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو ان کینسر کے خلیوں کو پہچاننا اور ختم کرنا سکھائے۔

اس طرح مستقبل میں ممکن ہے کہ ہر مریض کے کینسر کے لیے الگ ویکسین بنائی جائے۔

 خنزیر کے گردے انسان میں لگانا

دنیا میں بہت سے مریض گردے یا دوسرے اعضا کے منتظر رہتے ہیں لیکن مناسب عطیہ کرنے والا عضو وقت پر نہیں ملتا۔

سائنس دان خنزیر کے جینز میں تبدیلی کر رہے ہیں تاکہ ان کے گردے انسان کے جسم میں لگائے جا سکیں اور جسم انہیں فوراً مسترد نہ کرے۔

ابتدائی تجربات نے امید پیدا کی ہے کہ جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے خنزیر کے گردے انسانوں میں کام کر سکتے ہیں۔

اگر یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر کامیاب ہو گئی تو مستقبل میں اعضا کے انتظار میں مرنے والے مریضوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔

 ایسی چھوٹی سوئیاں جو خون کے ٹیسٹ کا متبادل بن سکتی ہیں

سائنس دان ایسے انتہائی چھوٹے مائیکرو نیڈل پیچ بنا رہے ہیں جنہیں جلد پر لگایا جا سکتا ہے۔

یہ چھوٹی چھوٹی سوئیاں جلد کے نیچے سے جسم کے مدافعتی نظام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے مستقبل میں بعض بیماریوں کی نگرانی کے لیے بار بار خون نکالنے یا بڑی بایوپسی کی ضرورت کو کم کیا جاسکے گا۔

یہ ٹیکنالوجی انفیکشن، مدافعتی بیماریوں، ویکسین کے اثرات اور بعض کینسرز کی نگرانی میں مدد دے سکتی ہے۔

 ذیابیطس کے لیے نئے خلیے

ٹائپ 1 ذیابیطس میں جسم کے وہ خلیے تباہ ہو جاتے ہیں جو انسولین بناتے ہیں تاہم سائنس دان اب لیبارٹری میں ایسے نئے خلیے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو انسولین پیدا کر سکیں۔

کچھ مریضوں میں ان نئے خلیوں نے دوبارہ انسولین بنانا شروع بھی کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں بعض مریضوں کو روزانہ انسولین کے انجیکشن لگانے کی ضرورت کم یا شاید ختم بھی ہو سکتی ہے۔

 زندہ ٹشو سے بنے مصنوعی اعضا

سائنس دان ایسے مصنوعی اعضا بنانے پر بھی کام کر رہے ہیں جو جسم کے ساتھ زیادہ قدرتی انداز میں کام کریں مثلاً ایسے امپلانٹس تیار کیے جا رہے ہیں جن میں زندہ پٹھوں کے خلیے استعمال ہوتے ہیں اور جو اعصاب کے ساتھ رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔

مستقبل میں اس ٹیکنالوجی سے ہاتھ یا ٹانگ کھونے والے افراد کے لیے مصنوعی عضو کو زیادہ قدرتی انداز میں حرکت دینا ممکن ہو سکتا ہے۔

نئی دوائیں بنانے میں مصروف مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب صرف تصاویر یا اسکین دیکھنے کے لیے استعمال نہیں ہو رہی بلکہ سائنس دان اے آئی کی مدد سے نئی دوائیں تلاش اور ڈیزائن کر رہے ہیں۔

اے آئی یہ اندازہ لگانے میں مدد کر سکتی ہے کہ کون سا کیمیکل کسی بیماری کے خلاف مؤثر ہو سکتا ہے اور وہ جسم میں کس طرح کام کرے گا۔

اس سے نئی دوا بنانے میں لگنے والا وقت کم ہو سکتا ہے کچھ ایسی دوائیں بھی انسانی تجربات تک پہنچ چکی ہیں جن کی تیاری میں اے آئی  نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

جو چیزیں کچھ عرصہ پہلے سائنس فکشن لگتی تھیں ان میں سے کچھ اب حقیقی مریضوں کے علاج اور کلینیکل تجربات کا حصہ بن چکی ہیں۔

آنے والے برسوں میں ممکن ہے کہ طب صرف بیماری کا علاج نہ کرے، بلکہ خراب جین درست کرے، تباہ شدہ خلیے دوبارہ بنائے اور جسم کے کھوئے ہوئے افعال کو بحال کرنے میں بھی مدد دے۔