سائنس دانوں نے بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنے کے دعوے کو جانچنے کے لیے نئی وضاحت پیش کی ہے جس میں جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ انسان کی عملی صلاحیتوں کو بھی جانچنے پر زور دیا گیا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق کسی شخص کی اصل عمر اس کی تاریخ پیدائش سے طے ہوتی ہے جب کہ حیاتیاتی عمر جانچنے کے لیے جسم میں عمر بڑھنے کے ساتھ آنے والی مختلف تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی قابلِ اعتماد حیاتیاتی پیمانے پر کسی شخص کی عمر کم ظاہر ہو تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جسم میں جانچی جانے والی خصوصیات نسبتاً کم عمر افراد میں پائی جانے والی کیفیت سے مشابہ ہوگئی ہیں۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ اسے مکمل طور پر بڑھتی عمر کو پلٹ دینا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ عمر بڑھنے کا عمل وقت کی طرح ایک سمت میں آگے بڑھتا ہے جسے مکمل طور پر واپس نہیں پلٹایا جاسکتا۔
تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ عمر جانچنے والے موجودہ پیمانے بڑی آبادیوں پر تحقیق اور موازنے کے لیے مفید ہیں تاہم کسی ایک فرد کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کسی علاج کے اثرات جانچنے کے لیے صرف جسم کے اندر ہونے والی تبدیلیاں دیکھنا کافی نہیں بلکہ پٹھوں کی مضبوطی، نقل و حرکت، یادداشت اور دیگر جسمانی و ذہنی صلاحیتوں میں بہتری کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
تحقیق میں دو سال تک خوراک میں کمی کرنے والے افراد پر ہونے والے ایک تجربے کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں عمر بڑھنے کی رفتار کے ایک پیمانے میں معمولی کمی دیکھی گئی تاہم دیگر پیمانوں پر نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی علاج کو مؤثر قرار دینے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ علاج سے پہلے اور بعد میں ایک ہی پیمانہ استعمال کیا گیا یا نہیں، تبدیلی علاج ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہی یا نہیں اور کیا دوسرے طریقے سے بھی اسی نتیجے کی تصدیق ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں قابلِ اعتماد نتیجہ اسی وقت سامنے آئے گا جب کم عمر ہونے والی جسمانی علامات کے ساتھ انسان کی حرکت، ذہنی صلاحیت اور مجموعی صحت میں بھی دیرپا بہتری نظر آئے۔




















