Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نئی جگہ پر نیند کیوں نہیں آتی؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی

سائنس میں اس کیفیت کو ’فرسٹ نائٹ ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ گھر میں بستر پر لیٹتے ہی نیند آجاتی ہے، لیکن کسی ہوٹل، رشتہ دار کے گھر یا کسی نئی جگہ پہلی رات نیند آنکھوں سے جیسے غائب ہو جاتی ہے؟ بستر آرام دہ ہو، سفر کی تھکن بھی ہو، اس کے باوجود بار بار آنکھ کھلنے لگتی ہے۔

اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سائنس میں اس کیفیت کو ’فرسٹ نائٹ ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے، جو نئی جگہ پر سوتے وقت دماغ کے نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کے عمل کا حصہ ہے۔

دماغ نئی جگہ پر ’پہرے دار‘ کیوں بن جاتا ہے؟

نیند کے ماہرین کے مطابق جب انسان کسی غیر مانوس جگہ پر سوتا ہے تو دماغ فوری طور پر اس ماحول کو مکمل طور پر محفوظ اور مانوس نہیں سمجھتا۔ چنانچہ دماغ کا ایک حصہ اردگرد کی آوازوں، روشنی، درجہ حرارت اور دیگر محرکات پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے۔

اسی وجہ سے نئی جگہ پر نیند نسبتاً ہلکی رہ سکتی ہے اور معمولی آواز یا حرکت بھی آنکھ کھولنے کا سبب بن سکتی ہے۔

بعض تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پہلی رات دماغ کے دونوں حصے ہمیشہ ایک جیسی گہری نیند میں نہیں جاتے۔ ایک حصہ نسبتاً زیادہ چوکس رہ سکتا ہے تاکہ اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیتا رہے۔ اسی کیفیت کو عام زبان میں دماغ کا ’پہرے دار‘ ہونا کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دراصل جسم اور دماغ کا نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کا قدرتی عمل ہے۔

پہلی رات کتنی نیند متاثر ہو سکتی ہے؟

ہر شخص میں فرسٹ نائٹ ایفیکٹ کی شدت مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض افراد کو نئی جگہ پر پہلی رات نیند کا دورانیہ کم محسوس ہوتا ہے، جبکہ کچھ افراد کی نیند کی گہرائی متاثر ہوتی ہے۔

نتیجتاً صبح اٹھنے پر ایسا لگ سکتا ہے جیسے پوری رات ٹھیک سے نیند نہیں آئی، حالانکہ انسان کئی گھنٹے سو چکا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اکثر لوگ نیند میں باتیں کیوں کرتے ہیں؟ وجوہات جانیے

بچوں اور بزرگوں پر زیادہ اثر

ماہرین کے مطابق عمر بھی اس کیفیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بچوں اور نوعمروں میں نئی جگہ پر نیند متاثر ہونے کا امکان زیادہ دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ بعض بزرگ افراد بھی ماحول کی تبدیلی کو زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

اس کی ایک ممکنہ وجہ انسانی دماغ کا وہ ارتقائی نظام ہے جس کے تحت غیر مانوس ماحول میں انسان زیادہ محتاط رہتا ہے۔ ماضی میں اجنبی جگہ پر سونا واقعی خطرات سے بھرپور ہو سکتا تھا، اس لیے دماغ کا کچھ حصہ اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنے کے لیے زیادہ چوکس رہتا تھا۔

صرف دماغ ہی نیند خراب نہیں کرتا

نئی جگہ پر نیند خراب ہونے کی واحد وجہ فرسٹ نائٹ ایفیکٹ نہیں۔ سفر کی تھکن، معمول میں تبدیلی، کمرے کا درجہ حرارت، روشنی، شور، نیا بستر یا مختلف تکیہ بھی نیند کو متاثر کر سکتا ہے۔

اسی طرح سفر کے دوران سونے اور جاگنے کے اوقات میں تبدیلی جسم کی اندرونی گھڑی کو متاثر کر سکتی ہے۔

رشتہ داروں یا دوستوں کے گھر قیام کے دوران ذہنی کیفیت بھی معمول سے مختلف ہو سکتی ہے، جو نیند پر اثر ڈال سکتی ہے۔

کچھ لوگوں کو نئی جگہ پر بہتر نیند کیوں آتی ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ فرسٹ نائٹ ایفیکٹ ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔ کچھ افراد کو نئی جگہ پر پہلی رات گھر کے مقابلے میں زیادہ اچھی نیند بھی آ سکتی ہے۔

مثلاً طویل سفر کے بعد شدید تھکن بعض افراد کو نئی جگہ پر بھی گہری نیند سلا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر گھر میں مسلسل ذہنی دباؤ یا نیند کے مسائل موجود ہوں تو نئی جگہ کا ماحول کچھ لوگوں کو عارضی طور پر زیادہ پرسکون محسوس ہو سکتا ہے۔

’مجھے نیند نہیں آئے گی‘ کا خیال بھی مسئلہ بن سکتا ہے

ماہرین کے مطابق بعض اوقات نئی جگہ سے زیادہ انسان کی اپنی سوچ نیند میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

اگر کوئی شخص بستر پر جانے سے پہلے ہی یہ سوچنا شروع کردے کہ ’آج مجھے نیند نہیں آئے گی‘ تو اس کی بے چینی بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ مزید چوکس رہتا ہے۔

یعنی نیند نہ آنے کا خوف خود نیند میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

نئی جگہ پر اچھی نیند کے لیے کیا کریں؟

ماہرین کے مطابق نئی جگہ پر نیند بہتر بنانے کے لیے چند آسان اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

سونے اور جاگنے کا وقت معمول کے قریب رکھنے کی کوشش کریں۔

کمرے کو پرسکون، تاریک اور مناسب درجہ حرارت پر رکھیں۔

سونے سے پہلے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر اسکرینز کا استعمال کم کریں۔

نئی جگہ پہنچتے ہی فوراً سونے کے بجائے کچھ دیر آرام کریں تاکہ دماغ نئے ماحول سے مانوس ہو سکے۔

اگر ممکن ہو تو اپنا پسندیدہ تکیہ، کمبل یا گھر سے جڑی کوئی مانوس چیز ساتھ رکھیں۔

سونے سے پہلے کتاب پڑھنے، ہلکی موسیقی سننے یا کسی پرسکون معمول کو اپنانے کی کوشش کریں۔

ایک رات کی خراب نیند کو لے کر غیر ضروری پریشانی سے گریز کریں۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر صورتوں میں دماغ کچھ وقت گزرنے کے بعد نئے ماحول سے مانوس ہو جاتا ہے اور نیند بھی معمول پر آ جاتی ہے۔

لہٰذا اگلی بار اگر کسی ہوٹل یا نئی جگہ پر پہلی رات بار بار آنکھ کھلے تو ضروری نہیں کہ یہ کسی بیماری کی علامت ہو۔ ممکن ہے آپ کا دماغ صرف نئے ماحول کو سمجھنے اور اسے محفوظ قرار دینے میں مصروف ہو۔ جیسے ہی دماغ کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی ’پہرے داری‘ کم ہونے لگتی ہے اور نیند بھی زیادہ پرسکون ہو سکتی ہے۔