ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی، جس میں پاک ایران تعلقات، خطے کی صورتحال اور امریکا ایران کشیدگی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بار بار وعدہ خلافی نے ثالثی کے عمل کے اعتبار کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد معاہدے کی امریکی خلاف ورزی کو خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ثالثی کے طور پر پاکستان کی تعمیری کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی تازہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور معاہدوں پر عمل درآمد اور باہمی مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
عباس عراقچی نے ایران اور عمان کے درمیان باہمی مفاہمت کی تازہ صورتحال سے اسحاق ڈار کو آگاہ کیا، جبکہ قطر کے ذریعے امریکا کے ساتھ ہونے والے رابطوں کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں۔
ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگ اور اسرائیلی قبضے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطے کو علاقائی امن کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ پاکستان اور ایران نے باہمی رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور اسلام آباد معاہدے کے تحت مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک روز قبل نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے اور براہ راست مذاکرات کی بحالی سمیت معاملات پر کئی گھنٹے بات چیت بھی ہوئی تھی۔
اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے آئندہ بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

















