Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

میر رضا قتل کیس، جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

کمیشن نے سندھ پولیس کو اپنی سابقہ کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے عوام سے معذرت کرنے کی سفارش بھی کی ہے

سندھ حکومت نے نوجوان میر رضا کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کردی، جس میں ابتدائی مراحل میں شواہد چھپانے کے امکان کو مسترد نہ کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے، انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں کو شامل کرنے اور غفلت کے مرتکب پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق میر رضا کیس کی تحقیقات کے دوران مجموعی طور پر 15 اجلاس منعقد کیے گئے، جبکہ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے جائے وقوعہ اور گیسٹ ہاؤس کا دورہ بھی کیا۔ کمیشن نے اہلخانہ، دوستوں، کاروباری شراکت داروں، سرمایہ کاروں، پولیس افسران اور دیگر متعلقہ افراد سمیت 45 سے زائد گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن کو ابتدائی طور پر انکوائری مکمل کرنے کے لیے ایک ماہ دیا گیا تھا، جس میں بعد ازاں 15 روز کی توسیع کی گئی۔ میر رضا کے اہلخانہ نے کمیشن کی رپورٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ ان کی درخواست پر عدالتی حکم کے تحت نوجوان کی قبر کشائی بھی کی گئی اور لاش کا دو مرتبہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ واقعے کو ابتدا میں ایک انداز میں بیان کیا گیا، تاہم بعد میں اسے قتل قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے نے عوام کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے اور تحقیقات کے درست نتائج سامنے آنے کے باوجود عوام کی جانب سے انہیں قبول کیے جانے کا امکان کم ہے۔

رپورٹ میں اس خدشے کو بھی مسترد نہیں کیا گیا کہ ابتدائی مراحل میں شواہد چھپانے کی کوشش کی گئی ہو۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ شواہد متاثر ہونے کے بعد کیس کی تحقیقات صرف روایتی طریقہ کار تک محدود رکھنے کے بجائے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بھی کی جانی چاہئیں۔

جوڈیشل کمیشن نے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی سفارش کی ہے، جس میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لیا جاسکے اور حقائق سامنے لائے جاسکیں۔

کمیشن نے سندھ پولیس کو اپنی سابقہ کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے عوام سے معذرت کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ غفلت کے مرتکب پولیس افسران کے خلاف فوری محکمانہ انکوائری شروع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ میر رضا کیس میں عوامی اعتماد کی بحالی اور شفاف تحقیقات کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممکنہ پہلوؤں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

متعلقہ خبریں