افغان طالبان رجیم کے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کو فراہم کردہ امریکی ساختہ اسلحے کے ہوشربا شواہد سامنے آ گئے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے ہلاک دہشت گردوں سے امریکی ساختہ ہتھیار برآمد کیے، برآمد ہونے والے امریکی ساختہ اسلحے میں M16 اور M4 جیسی رائفلز، ایمنگ لیزر اور نائٹ ویژن ڈیوائسز بھی شامل ہیں۔
طالبان لیڈر ملا ہیبت اللہ کا فتنہ الہندوستان کو طالبان رجیم کی جانب سے اسلحہ فراہمی کیلئے لکھا گیا خط بھی دونوں کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔
خفیہ رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی “را” نے بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے لیے 78 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی، بھارتی ریٹائرڈ کرنل بھی فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے ذریعے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں افغان سرزمین سمیت بھارتی اور اسرائیلی کردارکا اعتراف کر چکا ہے۔
امریکی جریدہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انٹیلیجنس رپورٹ میں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان گورنر ملا شیرین کی میزبانی میں بھارت افغان انٹیلیجنس حکام کے اجلاس کا انکشاف ہو چکا ہے، اجلاس میں دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان، القاعدہ اور خارجی گل بہادر گروپ کے نمائندے شامل تھے۔
امریکی واچ ڈاگ سیگار رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکا کی جانب سے چھوڑا گیا 7.1 ارب ڈالرکا اسلحہ افغان رجیم کی سرپرستی میں دہشت گرد تنظیمیں استعمال کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ سمیت عالمی جرائد بھی افغان طالبان رجیم کے فراہم کردہ امریکی ہتھیاروں کی دہشت گرد گروہوں تک رسائی کے سنگین پہلو کو بے نقاب کرچکے ہیں۔
















