Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دہشت گردی سے متعلق کچھ ایسے مسائل ہیں جنہیں اندرونی طور پر سنبھالنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

‘ہمارے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی موجود ہے’

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق کچھ ایسے مسائل ہیں جنہیں اندرونی طور پر سنبھالنا ہوگا۔

ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی موجود ہے، پاکستان میں دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ذہنیت بھارت کی طرح نہیں ہے ہم تمام داخلی مسائل کو بیرونی قرار دیں، ہم یہ نہیں کہتے پاکستان میں تمام دہشت گردی صرف افغانستان کی وجہ سے ہے، افغانستان وہ بنیادی اڈہ ہے جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی ہوتی ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کی قیادت، ان کے تربیتی کیمپ، لانچ پیڈز موجود ہیں، دہشت گردی سے متعلق کچھ ایسے مسائل ہیں جنہیں اندرونی طور پر سنبھالنا ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے سہولت کاروں میں کےپی میں نااہل، لاتعلق حکومت بھی تھی، کےپی میں کسی بڑےفوجی آپریشن کی بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہورہے ہیں، انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ہمارا جتنا تجربہ ہے کسی اور ملک یا فوج کے پاس نہیں، سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر 200انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتی ہیں، آپریشنز پولیس، فوج دیگر ادارے مشترکہ تعاون سے کرتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے دہشت گردی سے زیادہ مصائب برداشت کیے ہیں، خیبرپختونخوا کے غیورعوام بہادر، پاکستانی معاشرے کا بہت خاص حصہ ہیں، پشتون اپنی روایات پر فخر کرنے والے لوگ ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام امن واستحکام کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ اس کے مستحق ہیں، خیبرپختونخوا میں کوئی بھی شخص انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کےخلاف نہیں، انسداد دہشت گردی کی وہی مخالفت کرتے ہیں جن کا دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ ہے۔

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کےپی میں انسداد دہشت گردی میں رکاوٹ پیدا کرنے والاسہولت کا راب وہاں موجود نہیں، معاشی سرگرمیاں سبوتاژ کرنے کے لیے دہشت گرد پلوں، ریلوے لائنوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ دہشت گرد بلوچستان کی ترقی، ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، بلوچستان دہشت گرد مائننگ، ایل پی جی ٹرکوں، اسکولوں، اساتذہ پر حملے کرتے ہیں، ہر وہ چیز جو مقامی آبادی کو روزگار، معاشی قوت فراہم کرے، دہشت اسے نشانہ بناتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بلوچستان کی اشرافیہ عام عوام کو غریب اور ان پڑھ رکھ کر اپنا اثرورسوخ قائم رکھنا چاہتی ہے، دہشت گرد، اشرافیہ عوام کو پسماندگی میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ محرومی کا بیانیہ برقرار رہے، بلوچستان میں دہشت گردوں اور اشرافیہ کا گٹھ جوڑ ہے، دونوں ہی صوبے کی ترقی کے مخالف ہیں۔

متعلقہ خبریں