امریکا میں قائم روبوٹکس کمپنی ریئل بوٹکس نے چار نئے ہیومنائیڈ روبوٹس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جن کے نام آریا، میلا ، ڈیو اور ایمر ہیں یہ روبوٹ مصنوعی ذہانت کی مدد سے انسانوں سے نہ صرف بات چیت کر سکیں گے بلکہ تنہا افراد کے لیے بہترین ساتھی بھی ثابت ہوں گے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کو کم قیمت میں تیار کرنے کے لیے فی الحال صرف جسم کے اوپری حصے پر توجہ دی گئی ہے ان کے بازو اور ٹانگیں نہیں ہوں گی یہی وجہ ہے کہ یہ صرف میز یا بینچ پر رکھے جاسکیں گے۔
ان ٹیبل ٹاپ روبوٹس کی قیمت 11 ہزار 950 ڈالر رکھی گئی ہے۔ جبکہ مکمل روبوٹ کی متوقع قیمت 59 ہزار 950 ڈالر ہوگی۔
صارفین اپنی پسند کا روبوٹ بک کروانے کے لیے 199 ڈالر جمع کروا سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان روبوٹس کو جنوری 2027 میں لاس ویگاس میں ہونے والی ٹیکنالوجی نمائش سی ای ایس میں پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بغیر بازو اور جسم کے چلنے والا روبوٹک ہاتھ تیار
کمپنی کو توقع ہے کہ روبوٹس کی فراہمی 2027 میں شروع ہو جائے گی۔ تاہم پہلے مرحلے میں صرف 225 ٹیبل ٹاپ روبوٹ اور 25 مکمل جسم والے روبوٹ تیار کیے جائیں گے۔
روبوٹ سے بات کرنے کے لیے ماہانہ فیس بھی دینا ہوگی
ان روبوٹس کو خریدنے کے بعد ان سے بات چیت کرنے کے لیے ماہانہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی سب سے سستا پیکیج 19.99 ڈالر ماہانہ ہے، جس میں صارف کو روبوٹ سے 10 گھنٹے بات کرنے کی سہولت دستیاب ہوگی جبکہ 39.99 ڈالر ماہانہ کے پیکیج میں 40 گھنٹے بات چیت، مختلف آوازوں، زبانوں اور لہجوں کا انتخاب کیا جا سکے گا۔
جبکہ 199 ڈالر ماہانہ کے پیکیج میں 100 گھنٹے گفتگو اور اپنی پسند کے اے آئی کردار بنانے کی سہولت بھی دی جائے گی۔
چیٹ جی پی ٹی ، کلاؤڈ اور جمینی کی ٹیکنالوجی شامل
کمپنی کے مطابق ان روبوٹس میں چیٹ جی پی ٹی، کلاؤڈ اور جمینی، سمیت مختلف اے آئی ٹیکنالوجیز استعمال کی جاسکیں ان کے سر اور چہرے حرکت کر سکیں گے اور ہر روبوٹ کی شخصیت دوسرے سے مختلف ہوگی۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق خواتین روبوٹس کو خیال رکھنے والی اور اچھی بات سننے والی شخصیت دی گئی ہے، جبکہ مرد روبوٹس کو حاضر جواب اور صحت و تندرستی میں دلچسپی رکھنے والا بتایا گیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹس انسانوں کی جگہ نہیں لیں گے بلکہ ان کی مدد کریں گے۔کمپنی کا مقصد ایسے روبوٹس تیار کرنا ہے جو لوگوں سے بات کر سکیں اور تنہائی کم کرنے میں مدد دیں۔
کمپنی کے مطابق فی الحال یہ روبوٹس صرف امریکا میں فراہم کیے جائیں گے۔ ان کی ڈیلیوری 2027 کی دوسری ششماہی میں متوقع ہے، جس کے لیے صارفین کو اضافی رقم بھی ادا کرنا ہوگی۔
اگر کمپنی روبوٹس تیار کرنے میں ناکام رہتی ہے تو صارفین کو 199 ڈالر واپس کر دیے جائیں گے۔ تاہم اگر صارف خود آرڈر منسوخ کرتا ہے تو اس کی رقم واپس نہیں ہوگی۔
ابھی یہ روبوٹس مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں، اس لیے ان کی اصل کارکردگی کا اندازہ ان کی فروخت شروع ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔




















