فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر واقع سی ای آر این کی بڑی ہیڈرون کولائیڈر میں کام کرنے والے سائنسدانوں نے سیسہ کو سونے میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
یہ کامیابی کسی قیمتی دھات کو بنانے کی کوشش کے دوران نہیں بلکہ بگ بینگ کے فوراً بعد کے حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے حاصل ہوئی۔
ایلس تجربے میں شامل محققین سیسہ کے مرکزوں سے سونے کی معمولی مقدار پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ سائنسدانوں کے مطابق بنائی گئی کل مقدار صرف 29 ٹریلینویں حصہ گرام ہے۔
کیسے ممکن ہوا؟
ایٹم کی ساخت کی وجہ سے یہ ممکن ہوا۔ سیسہ اور سونا مختلف عناصر ہیں کیونکہ ان کے ایٹموں میں پروٹون کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ سونے کے ایٹم میں سیسہ کے مقابلے میں تین پروٹون کم ہوتے ہیں۔ اگر سیسہ کے مرکزے سے تین پروٹون نکال دیے جائیں تو یہ سونا بن جاتا ہے۔
محققین نے سیسہ کے مرکزوں کو روشنی کی رفتار کے قریب تیز کیا اور کولائیڈر کے اندر انہیں ایک دوسرے کے پاس سے گزرایا۔
جب یہ مرکزے آمنے سامنے ٹکرانے کے بجائے بمشکل ایک دوسرے سے بچ جاتے ہیں تو وہ انتہائی طاقتور برقی مقناطیسی میدان پیدا کرتے ہیں۔ یہ میدان مرکزوں کو اتنا متاثر کرتے ہیں کہ پروٹون ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔
بعض نایاب صورتوں میں تین پروٹون نکل جاتے ہیں اور سیسہ سونے میں بدل جاتا ہے۔ دوسری صورتوں میں دو پروٹون نکلنے سے پارہ اور ایک پروٹون نکلنے سے تھیلیم بنتا ہے۔
محققین کا اندازہ ہے کہ سیسہ کے مرکزوں کی کارروائی کے دوران یہ ٹکراؤ ہر سیکنڈ میں تقریباً 89 ہزار سونے کے مرکزے پیدا کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسدان خود سونے کو براہ راست نہیں دیکھتے بلکہ خصوصی آلات (زیرو ڈگری کیلوریمیٹر) کے ذریعے نکلے ہوئے پروٹون کو گنتے ہیں اور اندازہ لگاتے ہیں کہ کون سے نئے عناصر بنے ہیں۔
