پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق عوام کیلئے بُری خبر آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایل سیز نہ کھلنے سے ملک میں پیٹرول کے ذخائر ختم ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں کیونکہ پرائیویٹ کے بعد سرکاری تیل کمپنیز کی ایل سیز بھی کنفرم نہیں ہوسکیں۔
پی ایس او کی پیٹرول، ڈیزل اور لیبریکنٹس کی 5ایل سیز بینکوں نے تاحال نہیں کھولیں جس کے باعث ملک میں آئندہ مہینے پیٹرول اسٹاک ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور سری لنکا کے بعد برازیل کا بھی روس سے سستا تیل خریدنے کا اعلان
دوسری طرف پی ایس او حکام کا کہنا ہے فی الحال مطلوبہ اسٹاک موجود ہے تاہم آئندہ مہینے تک ایل سیز نہ کھلیں تو تیل کا اسٹاک برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔
آِئل کمپنیزایڈوائزری کونسل نے ملک میں تیل بحران کا خدشہ ظاہر کر رکھا ہے اورمعاملے کی حساسیت پر حکومت کو خط بھی لکھا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایک مرتبہ تیل کی سپلائی چین متاثرہوگئی توبحالی میں 6 سے 8 ہفتے لگ جائیں گے جو ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات پر ڈیڈلاک برقرار
واضح رہے کہ ملکی ضروریات کے لیے ماہانہ ایک ارب تیس کروڑ ڈالرمالیت کا تیل درآمد کیا جاتا ہے۔
